مسیحی انفاس — Page 438
شخص نے عمل بھی کیا ہے۔چنانچہ یہ سوال ان کا نور افشاں ۲۰ر دسمبر ۱۸۹۵ء میں درج ہوچکا ہے۔در حقیقت یہ سوال خیر الدین صاحب کا نہایت عمدہ اور کامل اور ناقص تعلیم کے لئے ایک معیار تھا۔مگر افسوس کہ پرچہ نور افشاں ۳ جنوری ۱۸۹۶ء میں پادری ٹھا کر داس نے قابل قدر اور بیش قیمت سوال کا ایسا نکما اور بیہودہ جواب دیا ہے جس سے ایک محقق طبع انسان کو ضرور ہنسی آئے گی۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ سوال اور جواب کی کچھ حقیقت محاکمہ کے طور پر ظاہر کر کے ان لوگوں کو فائدہ پہنچاوں جو حقیقی سچائیوں کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔واضح ہو کہ پادری ٹھاکر داس صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انجیل میں جانی یا مالی ضرر کی حالت میں ترک مقابلہ کے یہ معنی ہیں کہ ظالم سے انتقام حکومت ہی لیوے آپ مقابلہ نہ کریں۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ظالم کسی جان کو ضرر پہنچادیوے یا مال کو لے لیوے تو انجیل کا منشاء یہ ہے کہ بتوسط حاکم چارہ جوئی کی جائے۔اب غور سے سوچنا چاہئے کہ انجیل متی کی اصل عبارت جس کے یہ معنی کئے گئے ہیں یہ ہے کہ ”تم سن چکے ہو کہ کہا گیا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرتا۔" اس جگہ غور طلب یہ امر ہے کہ ترک مقابلہ کے کیا معنی ہیں ؟ کیا صرف یہی کہ اگر کوئی ظالم آنکھ پھوڑ دے ، یا دانت نکال دے تو بتوسط حکام اس کو سزا دلانی چاہئے۔خود بخود اس کی آنکھ نہیں پھوڑنی چاہئے۔اور نہ دانت نکالنا چاہئے۔اگر یہی معنی ہیں تو توریت پر زیادت کیا ہو گی۔کیونکہ توریت بھی تو یہی ہدایت دیتی ہے کہ ظالموں کو قاضیوں کی معرفت سزا ملے۔خروج ۲۱ باب میں خدا موسیٰ کو کہتا ہے کہ تو جان کے بدلے جان لے اور آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے ، دانت۔اور توریت بتلا رہی ہے کہ یہ تمام سزائیں قاضیوں کی تجویز کے موافق عمل میں آویں۔مگر پادری ٹھاکر داس صاحب کہتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم میں توریت پر یہ زیادت ہے کہ ایک مظلوم حکام کی معرفت انتقام لیوے یعنی یہودیوں کو تو اختیار تھا کہ ظالم کو بغیر توسط حکام کے خود سزا دے دیں۔مگر انجیل نے قاضیوں اور حاکموں کے سوا کسی کو سزا دینے کے لئے مجاز قرار نہیں دیا۔گویا قاضیوں کے عہدے تجویز کرنے والی انجیل ہی ہے۔توریت میں اس کا کچھ ذکر نہیں۔مگر ظاہر ہے کہ ایسا خیال صریح خلاف واقعہ ہے۔اور پادری صاحب نے بھی کوئی ایسی آیت توریت کی پیش نہیں کی جس سے یہ سمجھا ۴۳۸