مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 632

مسیحی انفاس — Page 325

۳۲۵ تیسری فصل ان تاریخی کتب کی شہادتیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ مسیح علیہ السلام کا اس ملک پنجاب اور اس کی مضافات میں آنا ضرور تھا پونکہ طبعا یہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام واقعہ صلیہ سے نجات پا کر کیوں اس ملک میں آئے اور کسی ضرورت نے ان کو اس دور دراز سفر کے لئے آمادہ کیا۔اس لئے اس سوال کا تفصیل سے جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔اور گو ہم پہلے بھی اس بارے میں کس قدر لکھ آئے ہیں لیکن ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس بحث کو متحل طور پر درج کتاب کیا جائے۔سود واضح ہو کہ حضرت سیخ علیہ السلام کو انکے فرض رسالت کے رو سے ملک پنجاب اور اسکے نواح کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے جن کا نام انجیل میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں رکھا گیا ہو ان ملکوں میں آگئے تھے جن کے آنے سے کسی مؤرخ کو انکار نہیں ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک کی طرف سفر کرتے اور اُن گم شدہ بھیڑوں کا پتہ لگا کر خداتعالے کا پیغام آن کو پہنچاتے اور جب تک وہ ایسا نہ کرتے تب تک اُن کی رسالت کی غرض بے نتیجہ اور نامکمل تھی کیونکہ جس حالت میں وہ خدا تعالے کی طرف سے اُن گم شدہ بھیڑوں کی طرف بھیجے گئے تھے تو پھر بغیر اس کے کہ وہ ان بھیڑوں کے پیچھے جاتے اور اُن کو تلاش کرتے اور ان کو طریق نجات بتلاتے یونہی دنیا سے کوچ کر جانا ایسا تھا کہ جیسا کہ ایک شخص ایک بادشاہ کی طرف سے مامور ہو کہ وہ فلاں بیتا بانی قوم میں جاکر ایک کو آں کھو دے اور اس گنوے سے ان کو پانی پلاو سے لیکن یہ شخص کسی دوسرے مقام میں تین چار برس رہ کر واپس چلا جائے اور اس قوم کی تلاش میں ایک قدم بھی نہ اٹھا ئے و کیا اس نے بادشاہ کے کم کم وقت ملک کا ہرگز نہیں بلکہ اس نے محض اپنی آرام ملی کی وجہ سے اس قوم کی کچھ پروانہ کی۔