مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 632

مسیحی انفاس — Page 326

Mpy { ان گیری سوال ہو کر کیونکراو کس دلیل سے معلوم ہوا کہ اسرائیل کی پرت میں اس ملک میں آگئی تھیں تو اس کے جواب میں ایسے بدیہی ثبوت موجود ہیں کہ ان میں ایک معمولی اور موٹی عقل بھی شبہ نہیں کرسکتی کیونکہ یہ نہایت مشہور واقعات ہیں کہ بعض قوم میں مثلاً افغان اور کشمیر کے قدیم باشند سے در اصل بنی اسرائیل ہیں مثلا الائی کو ہستان جو ضلع ہزارہ سے دو تین دن کے راستہ پر واقع ہے اُس کے باشندے قدیم سے اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ایسا ہی اس ملک میں ایک دوسرا پہاڑ ہے جسکو کالا ڈاکہ کہتے ہیں۔اس کے باشندے بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہے ہم بنی اسرائیل ہیں اور خاص ضلع ہزارہ میں بھی ایک قوم ہے جو اسرائیلی خاندان - اپنے تئیں سمجھتے ہیں ایسا ہی چلاس اور کابل کے درمیان جو پہاڑ ہیں جنوب کی طرف شرقاً و غرباً ان کے باشندے بھی اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔اور کشمیر کے باشندوں کی نسبت وہ رائے نہایت صحیح ثابت ہوتی ہے جو ڈاکٹر پر تیر نے اپنی کتاب سیرو سیاحت کشمیر کے دوسرے حصے میں بعض محقق انگریزوں کے حوالہ سے لکھی ہے۔یعنی یه که بلاش به کشمیری لوگ بنی اسرائیل ہیں اور اُنکے لباس اور چہرے اور بعض رسوم قطعی طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی خاندان میں سے ہیں۔اور فارسٹر نامی ایک انگریز اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ جب میں کشمیر میں تھا۔تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہوں۔اور کتاب دی ریسز آن افغانستان مصنفہ اپنے ڈبلیو لیو سی ایس آئی مطبوعہ تھا کہ سپینگ اینڈ کو کلکتہ میں لکھا ہے کہ افغان لوگ ملک سیریا سے آئے ہیں۔بخت نصر نے انہیں قید کیا اور پرشیا اور میدیا کے علاقوں میں انھیں آباد کیا۔ان مقامات سے کسی بعد کے زمانہ میں مشرق کی طرف نکل کر غور کے پہاڑی ملک میں جابسے جہاں بنی اسرائیل کے نام سے مشہور تھے۔اسکے ثبوت میں اور میں نبی کی پیشگوئی ہو کہ دس قو میں اسرائیل کی ہو قید میں ماخوذ ہوئی تھیں۔قید سے بھاگ کر ملک ارسارہ میں پناہ گزین ہوئیں۔اور وہ اُسی ملک