مسیحی انفاس — Page 317
۳۱۷ مسیحا کا اُن کے ملک میں آنا اور اس طرح پر پیش گوئی کا پورا ہو جانا لکھا ہوا ہو۔اور اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ لکھا ہوا نہیں ہے تب بھی جبکہ بدھنہ نے خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر اپنے شاگردوں کو یہ امید دی تھی کہ بگو امتیا اُن کے ملک میں آئیگا اس بنا پر کوئی بدھ مت والا جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہو اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا کہ دیگو امتیا جس کا دوسرا نام سیجا ہے اس ملک میں آیا تھا کیونکہ پیشگوئی کا باطل ہونا مذہب کو باطل کرتا ہے۔اور ایسی پیشگوئی جسکی میعاد بھی مقدر تھی اور گوتم بد نے بار بار اس پیشگوئی کو اپنے مریدوں کے پاس بیان کیا تھا۔اگر وہ اپنے وقت پر پوری نہ ہوتی تو بدھ کی جماعت گوتم بدھ کی سچائی کی نسبت شبہ میں پڑ جاتی اور کتابوں نیں یہ بات لکھی جاتی کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پیش گوئی کے پورا ہونے پر ہمیں ایک اور دلیل یہ ملتی ہے کہ تبت میں ساتویں صدی عیسوی کی وہ سنت ہیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں شیخ کا لفظ موجود ہے یعنے حضرت عیسی علیہ السلام کا نام لکھا ہے اور اس لفظ کو منی شنی ہو کر کے ادا کیا ہے۔اور وہ فہرست جس میں بھی بنتی ہو پایا گیا ہے اس کا مرتب کرنے والا ایک بدھ مذہب کا آدمی ہے۔دیکھو کتاب اسے ریکارڈ آف دی پر منٹ ریلی مصنفہ آئی سنگ مترجم میں ٹکا کو سو۔اور جی کا کوسو بن ایک جاپانی شخص ہو ج بنی ہوئی سنگ کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔اور آئی سنگ ایک چینی سیاح ہو جسکی کرتا ہے حاشیہ پر اور ضمیمہ میں لگا کو سنے تحریر کیا ہو کہ ایک قدیم تالیف میں می شی ہو اسی کا نام درج ہو اور یہ تالیف قریباً ساتویں صدی کی ہے۔اور پھر اس کا ترجمہ حال میں ہی کلیر بٹن پریس آکسفورڈ میں بھی ٹکا کو سونا ہم ایک جاپانی نے کیا۔غرض اس کتاب میں مشیح کا بدین کا لفظ موجود ہے جس سے ہم یہ یقین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لفظ بدھ مذہب والوں کے پاس باہر سے نہیں آیا بلکہ بدھ کی پیش گوئی سے یہ لفظ گیا ہے جس کو کبھی انہوں نے منشیح کر کے لکھا اور کبھی بگو امنیا کر کے۔ور منجملہ ان شہادتوں کے جو بدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں ایک یہ ہے کہ