مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 632

مسیحی انفاس — Page 316

تھی۔اور پھر اس کتاب انگریزی پر مصنف نے ایک نوٹ لکھا ہے اس کی یہ عبارت ہر کتاب پیتا کسیان اور انتھا کتھا میں ایک اور بدھ کے نزول کی پیش گوئی بڑی واضح طور پر درج ہے جس کا ظہور گوتم یا ساکھی منی سے ایک ہزار سال بعد لکھا گیا ہے۔گوتما بیان کرتا ہے کہ میں پچیسواں بدھ ہوں۔اور بگو امتیا نے ابھی آتا ہوں۔ینے میرے بعد اس ملک میں وہ آئے گا جس کا نام مقیا ہو گا اور وہ سفید رنگ ہوگا۔پھر آگے وہ انگریز مصنف لکھتا ہے کہ متیا کے نام کو مسیحا سے حیرت انگیز مشابہت ہے۔غرض اس پیش گوئی میں گوتم بدھد نے صاف طور پر اقرار کر دیا ہے کہ اس کے ملک میں اور اس کی قوم میں اور اسپر ایمان لانے والوں میں سیا آنے والا ہے یہی وجہ تھی کہ اس کے مذہب کے لوگ ہمیشہ اس انتظار میں تھے کہ انکے ملک میں سیحا آئے گا۔اور بدھو نے اپنی پیش گوئی میں اس آنے والے بارود کا نامہ گواتا اس نے رکھا کہ بگوا سنسکرت زبان میں سفید کو کہتے ہیں۔اور حضرت بی چونکہ بلاد شام کے رہنے والے تھے اس لئے وہ بگو ا یعنے سفید رنگ تھے جس ملک میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی یعنے مگریہ کا ملک جہاں راجہ گر یہا واقع تھا اس ملک کے لوگ سیاہ رنگ تھے اور گوتم بدمد نخود سیاہ رنگ تھا۔اس لئے بدھ نے آنے والے بدعہ کی قطعی علامت ظاہر کرنے کے لئے دو باتیں اپنے مُریدوں کو بہت لائی تھیں۔ایک یہ کہ وہ بگوا ہوگا۔دوسرے یہ کہ وہ متیا ہو گا یعنے سیر کرنے والا ہو گا اور باہر سے آئے گا۔سو ہمیشہ وہ لوگ انہی علامتوں کے منتظر تھے جب تک کہ انہوں نے حضرت سیج کو دیکھ لیا۔یہ عقیدہ ضروری طور پر ہر ایک بدھ مذہب والے کا ہونا چاہئیے کہ بدھ سے پانسو برش بعد بگوا متیا اُن کے ملک میں ظاہر ہو ا تھا۔شور اس عقیدہ کی تائید میں کچھ تعجب نہیں ہے کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں متیا یعنے ایک ہزار و پانچ ہزار سال والی بیماریں غلط ہیں۔منہ