مسیحی انفاس — Page 318
بدهد ایزم مصنفہ سر مونیر ولیم صفحه ۴۵ میں لکھا ہے کہ چھٹا مرید بدھ کا ایک شخص تھا۔جس کا نام لیا تھا۔یہ لفظ یسوع کے لفظ کا مختلف معلوم ہوتا ہے۔چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام بدھ کی وفات سے پانسو برس گزرنے کے بعد یعنے چھٹی صدی میں پیدا ہوئے تھے اس لئے چھٹا مرید کہلائے۔یادر ہے کہ پر وفیسر میک مولر اپنے رسالہ نائن ٹینتھ سنچری اکتوبر که ایر صفحه ۱۷ھ میں گذشتہ بالا مضمون کی ان الفاظ سے تائید کرتے ہیں کہ یہ خیال کئی دفعہ ہر دل عزیز مصنفوں نے پیش کیا ہے کہ صیح پر بدھ ہیں یہ مذہب کے اصولوں نے اثر ڈالا تھا۔اور پھر لکھتے ہیں کہ آج تک اس وقت کے عمل کرنے کے لئے کوشش ہو رہی ہے کہ کوئی ایسا سچا تاریخی راستہ معلوم ہو جائے جسکے ذریعہ سے بدھ مذہب مسیح کے زمانہ میں فلسطین میں پہنچ سکا ہوا اب اس عباد سے بدھ مذہب کی اُن کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے جن میں لکھا ہے کہ ایسا بدھ کا مرید تھا۔کیونکہ جبکہ ایسے بڑے درجہ کے عیسائیوں نے جیسا کہ پروفیسر میکسمولر ہیں اس بات کو مان لیا ہے کہ حضرت مسیح کے دل پر بدھ مذہب کے اصولوں کا ضرور اثر پڑا تھا تو دوسرے لفظوں میں اسی کا نام مرید ہونا ہے۔مگر ہم ایسے الفاظ کو حضرت سیخ علیہ السلام کی شان میں ایک گستاخی اور ترک ادب خیال کرتے ہیں۔اور بڑھ مذہب کی کتابوں میں جو یہ لکھا یا کہ یشوع بدمد کا مرید یا شاگرد تھا تو یہ تحریر اس قوم کے علماء کی ایک پرانی عادت کے موافق ہے کہ وہ پیچھے آنے والے صاحب کمال کو گذشتہ صاحب کمال کا مرید خیال کر لیتے ہیں۔علاوہ اسکے جبکہ حضرت مسیح کی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں نہایت شدید مشابہت ہے جیسا کہ بیان ہو چکا تو پھر اس لحاظ سے کہ بدھ حضرت مسیح سے پہلے گزر چکا ہی بدھ اور حضرت مسیح میں پیری اور مریدی کا ربط دینا ہیجا خیال نہیں ہے گو طریق ادب سے دُور ہے۔لیکن ہم یورپ کے محققوں کی اس طرز تحقیق کو ہرگز پسند نہیں کر سکتے کہ وہ اس بات کی تفتیش میں ہیں کہ کسی طرح یہ پتہ لگ جائے کہ بدھ مذہب سیح کے زمانہ میں فلسطین پہنچ گیا تھا۔مجھے افسوس آتا ہے کہ جس ۳۱۸