مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 632

مسیحی انفاس — Page 305

۳۰۵ دوسری فصل: بدھ مذہب کی کتب واضح ہو کہ بدھ مذہب کی کتابوں میں سے انواع اقسام کی شہاد میں ہمکو دستیاب ہوئی ہیں جنکو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ضرور اس تک پنجاب کو شمیر وغیرہ میں آئے تھے۔ان شہادتوں کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں تاہر ایک منصف ان کو اول غور سے پڑھے اور پھر ان کو اپنے دل میں ایک سلسل صورت میں ترتیب دے کر خود ہی نتیجہ مذکورہ بالا تک پہنچ جائے۔اور وہ یہ ہیں۔اول وہ خطاب جو بدھ کو دیئے گئے مسیح کے خطابوں سے مشابہ ہیں اور ایسا ہی وہ واقعات جو بدھ کو پیش آئے مسیح کی زندگی کے واقعات ہوتے ہیں۔مگر بعد منہ ہی سے مراد ان مقامات کا مذہب ہے جو تبت کی حدود دینے کیہ اور لاس اور گلگت اور ہمت وغیرہ میں پایا جاتا ہر ینیک نسبت ثابت ہوا ہے کہ حضرت مسیح اُن مقامات میں گئے تھے۔خطابوں کی مشابہت میں یہ ثبوت کافی ہے کہ مثلاً حضرت عیسی علیہ السلا نے اپنی تعلیم میں اپنا نام نور رکھا ہے یامی گوتم کانام بدھ رکھا گیا ہے جو سنسکرت میں نور کے معنوں پر آتا ہے اور انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کا نام استاد بھی ہے ایسا ہی بدھ کا نام استالینے استاد ہے ایسا ہی حضرت مسیح کا نام انجیل میں مارک رکھا گیا ہے۔اسی طرح بدھ کا نام بھی گلگت ہے لینے مبارک ہے۔ایسا ہی حضرت مسیح کا نام شاہزادہ رکھا گیا ہے اور بدمد کا نام بھی شاہزادہ ہے۔اور ایک نام مسیح کا انجیل میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آنے کے مدعا کو پورا کرنے والا ہے ایسا ہی بدھ کا نام بھی بدھد کی کتابوں میں سدار تھا کھا گیا ہے یعنے اپنے آنے کا مدعا پورا کرنے والا۔اور انجیل میں حضرت مسیح کا ایک نام یہ بھی ہے کہ وہ تھکوں ماندوں کو پنا دینے والا ہے۔ایسا ہی بدھ کی کتابوں میں بدھ کا نام ہے آستون ستون یعنے بے پناہوں کو پنا؟ دینے والا۔اور انجیل میں حضرت مسیح بادشاہ بھی کہلاتے ہیں گو آسمان کی بادشاہت مُراد