مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 632

مسیحی انفاس — Page 304

مسم بلکہ سیاحوں کا سردار رکھا گیا۔چنانچہ ایک اسلامی فاضل ا ا ا نامہ لیتے عارف بالله ابی بکرمحمدبن محمد بن الوليد الفهري الطرطوش المالکی جو اپنی عظمت اور فضیلت میں شہرہ آفاق ہیں اپنی کتاب سراج الملوک میں جو طبع خیر یہ مصر میں سلسلہ میں چھپی ہو یہ عبارت حضرت مسیح کے حق میں لکھتے ہیں صفحہ بہ میں درج ہے ابن عیسی روح الله وكلمته راس الزاهدین و امام السائحين - یعنے کہاں ہے عیسی روح اللہ و کلمتہ اللہ جو زاہدوں کا سردار اور سیاحوں کا امام تھالینے وہ وفات پاگیا ہے اور ایسے ایسے انسان بھی دنیا میں نہ رہے دیکھو اس جگہ اس فاضل نے حضرت عیسی کو نہ صرف سیاح بلکہ سیاحوں کا امام لکھتا ہے۔ایسا ہی لسان العرب کے صفحہ ۳۱م میں لکھا ہے۔قبیل سمي عليسى بمسيح لانه كان سائحا فی الارض لا يستقر یعنے عینی کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین میں سیر کر تا رہتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا۔ہی مضمون تاج العروس شرح قاموس میں بھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مسح کیا گیا ہو یعنے اس کی فطرت کو خیر و برکت دی گئی ہو۔یہاں تک کہ اُس کا چھونا بھی خیرو برکت کو پیدا کرتا ہو۔اور یہ نام حضرت عیسی کو دیا گیا اور جسکو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ یہ نام دیتا ہے۔اور اسکے مقابل پر ایک وکبھی سیح ہے جو شر اور لعنت کے ساتھ مسح کیا گیا یعنے اس کی فطرت شہر اور لعنت پر پیدا کی گئی یہانتک کہ اس کا چھونا بھی شر او لعنت اور ضلالت پیدا کرتا ہے اور یہ نام مسیح وقبال کو دیا گیا۔اور نیز ہر ایک کوجو اس کا ہم طبع ہو اور یہ دونوں نام لینے مسیح سیاحت کرنیوالا اور سی برکت دیاگیا یہ اہم ضد نہیں ہیں اور پہلے معنے دوسرے کو باطل نہیں کر سکتے۔کیونکہ خدائے تعالیٰ کی یہ بھی عادت ہے کہ ایک نام کس کو عطا کرتا ہے اور کئی معنے اس سے مراد ہوتے ہیں۔اور سب اسپر صادق آتے ہیں۔اب خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حضرت علی علیه السلام اسیاح ہونا استقدر اسلامی تاریخ سے ثابت ہو کہ اگر ان تمام کتابوں میں نقل کیا جائے تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ یہی مضمون اپنے طول کی وجہ سو ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے۔اس لئے اس پر کفایت کی بات ہے۔سیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۶۶ تا ۷۲