مسیحی انفاس — Page 287
۲۸۷ مسلمان ہو گئے۔غرض اس ملک میں حضرت بیج کو بڑی وجاہت پیدا ہوئی۔اور حال میں ایک سکنہ ملا ہے جو اسی ملک پنجاب میں سے برآمد ہوا ہے اس پر حضرت عیسی علیہ السلام کا نام پالی تحریر میں درج ہے اور اسی زمانہ کا سکہ ہے جو حضرت بیچ کا زمانہ تھا۔اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت سیح علیہ السلام نے اس ملک میں اگر شاہانہ عزت پائی۔اور غالبا یہ سکہ ایسے بادشاہ کی طرف سے جاری ہوا ہے جو حضرت مسیح پر ایمان لے آیا تھا۔ایک اور بسکہ بر آمد ہوا ہے اسپر ایک اسرائیلی مرد کی تصویر ہے۔قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی حضرت مسیح کی تصویر ہے۔قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے کہ مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے گا وہ مبارک ہوگا۔سو ان سکوں سے ثابت ہے کہ اس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہو ا جب تک اس کو ایک شاہانہ عورت نہ دی گئی۔اسی طرح قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے ومطهرك من الذین کفر وایعنے اے علینی میں اُن الزاموں سے تجھے بری کرونگا اور تیرا پاکدامن ہونا ثابت کر دوں گا اور اُن تہمتوں کو دور کر دوں گا جو تیرے پر یہود اور نصاری نے لگائیں۔یہ ایک بڑی پیش گوئی تھی اور اس کا ماحصل میں ہو کہ یہود نے یہ تہمت لگائی تھی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح مصلوب ہو کر ملعون ہو کر خدا کی محبت اُنکے دل میں سے جاتی رہی اور جیسا کہ لعنت کے مفہوم کے لئے شرط ہے ان کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا سے بیزار ہو گیا اور تاریکی کے بے انتہا طوفان میں پڑ گیا اور بدیوں سے محبت کرنے لگا اور کل نیکیوں کا مخالف ہو گیا اور خدا سے تعلق توڑ کر شیطان کی بادشاہت کے ماتحت ہو گیا اور اسمیں اور خدامیں حقیقی دشمنی پیدا ہوگئی۔اور ہی تہمت ملعون ہونے کی نصاری نے بھی لگائی تھی مگر نصاری نے اپنی نادانی سے دو ضروں کو ایک ہی جگہ جمع کردیا ہے۔انہوں نے ایک طرف تو حضرت مسیح کو خدا کا فرزند قرار دیا اور دوسری طرف ملعون بھی قرار دیا ہے اور خود مانتے ہیں کہ متون تاریکی اور شیطان کا فرزند ہوتا ہو