مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 632

مسیحی انفاس — Page 288

یا خود شیطان ہوتا ہے سو حضرت مسیح پر یہ سخت ناپاک تہمتیں لگائی گئی تھیں۔اور مطہرک" کی پیش گوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدائے تعالیٰ ان الزاموں سے حضرت مسیح کو پاک کرے گا۔اور یہی وہ زمانہ ہے۔علیہ اگرچہ حضرت علی علیہ السلام کی تعمیر ہمارے نبی صلی الہ علیہ وسلم کی گواہی سے بھی عقلمندوں کی نظروں میں بخوبی ہوگئی۔کیونکہ آنجناب نے اور قرآن شریف نے گواہی دی کہ وہ الزام سب جھوٹے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام پر لگائے گئے تھے۔لیکن گواہی عوام کی نظرمیں نظری اور باریک تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے انصاف نے یہی چاہا کہ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السّلام کو مصلوب کرنا ایک مشہور امر تھا اور امور بدیہی یہ شہودہ محسوسہ میں سے تھا اسی طرح تطہیر اور بریت بھی امور مشہور دہ محسوسہ میں سے ہونی چاہیئے۔سو اب اسی کے موافق ظہور میں آیا مینے تطہیر بھی صرف نظری نہیں بلکہ محسوس طور پر ہوگئی اور لاکھوں انسانوں نے اس جسم کی آنکھ سے دیکھ لیا کہ حضرت عیسی علی السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔اور جیسا کہ گلگت یعنے سردی کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا ایسا ہی سمری کے مکان پر یعنے سرینگر میں انکی قبر کا ہونا ثابت ہوا۔یہ عجیب بات ہے کہ دونوں موقعوں میں سری کا لفظ موجود ہے۔یعنے یہاں حضرت میں علیہ السلام تصلیب پر کھینچے گئے اس مقام کا نام بھی گلگت یعنے سری ہے اور جہاں اُنیسویں صدی کے اخیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت ہوئی اس مقام کا نام بھی گلگت لینے سری ہے۔اور معلوم ہوتا ہو کہ وہ گلگت کہ جو کشمیر کے علاقہ میں ہے یہ بھی سری کی طرف ایک اشارہ ہے۔غالبا یہ شہر حضرت مسیح کے وقت میں بنایا گیا ہے اور واقعہ صلیب کی یاد گار مقامی کے طور پر اس کا نام ملک یعنے سمری رکھا گیا۔جیسا کہ لاتتہ جس کے معنے ہیں معبود کا شہر۔یہ عبرانی لفظ ہو اور یہ بھی حضرت مسیح کے وقت میں آباد ہوا ہے۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۲ تا ۵۵ ۲۸۸