مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 632

مسیحی انفاس — Page 286

یا کیا حال ہے۔مگر در حقیقت یہ سب امور سیج کے بچانے کے لئے خدائی تدبیریں تھیں۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ولکن شبه لم یعنے ہو میسج کو جان سے مارا نہیں ہے لیکن خدا نے ان کو شبہ میں ڈال دیا کہ گویا بار بار دیا ہے۔اس سے راستبازوں کو خدائے تعالیٰ کے فضل پر پڑی امید ہی ہو کہ جس طرح اپنے بندوں کو چاہے بچالے۔سیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جا سفحہ ۵۰ تا ۵۲ اور قرآن شریعت میں ایک یہ بھی آیت حضرت مسیو ق میں ہو۔وجیهها في الدنيا والآخرة ومن المقربين۔اس کا ترجمہ یہ نہ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں وجاہت بیچنے عزت اور مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔اب ظاہر ہے کہ حضرت شیخ نے ہیرو دوس اور پلا طوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔اور یہ خیال کہ دنیا میں پھر آ کر عزت اور بزرگی پائیں گے۔یہ ایک بے اصل وہم ہے جو نہ صرف خدا تعالئے کی کتابوں کے منشاء کے مخالف بلکہ اسکے قدیم قانون قدرت سے بھی مغائر اور مائن اور پھر ایک بے ثبوت امر ہے گر واقعی اور سچی بات یہ ہے کہ حضرت سیح علیہ السلام نے اس بدبخت قوم کے ہاتھ سے نجات پاکر جب ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے فخر بخشا۔تو اس ملک میں خدا تعالیٰ نے انکو بہت عزت دی اور بنی اسرائیل کی دس تو میں جوگر تھیں اس جگہ اگر ان کومل گئیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس ملک میں آکر اکثر آنمیں سے بدھ مذہب میں داخل ہوگئے تھے اور بعض ذلیل قسم کی بت پرستی میں پھنس گئے تھے۔سو اکثر ان کے حضرت مسیح کے اس ملک میں آنے سے راہ راست پر آگئے۔اور چونکہ حضرت مسیح کی دعوت میں آنے والے نبی کے قبول کرنے کے لئے وصیت تھی اس لئے وہ دس فرقے جو اس ملک میں آگر افغان اور کشمیری کہلائے۔آخر کا ر سب کے سب PAY