مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 632

مسیحی انفاس — Page 215

۲۱۵ ضروری نہیں جانتا کہ ایک گناہ گار کا بوجھ کسی بے گناہ پر ڈال دیا جائے اور عقل بھی تو نہیں کرتی کہ گناہ تو زید کرے اور بکر پکڑا جائے۔اس مسئلہ پر تو انسانی گورنمنٹوں نے بھی عمل نہیں کیا۔افسوس کہ نجات کے بارہ میں عیسائی صاحبوں نے غلطی کی ہے۔چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۴ ۱۸۵ توبہ و استغفار سے گناہ خدا کا قدیم سے قانون قدرت ہے کہ وہ توبہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے۔اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دعا بھی قبول کرتا ہے۔مگر یہ ہم نے خدا کے قانون قدرت میں کبھی نہیں دیکھا کہ زید اپنے سر پر پتھر تارے اور اس سے بکر کی دردسر معاف ہوتے ہیں جاتی رہے۔پھر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کی خود کشی سے دوسروں کی اندرونی بیماری کا دور ہونا کس قانون پر مبنی ہے۔اور وہ کونسا فلسفہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ مسیح کا خون کسی دوسرے کی اندرونی ناپاکی کو دور کر سکتا ہے۔بلکہ مشاہدہ اس کے بر خلاف گواہی دیتا ہے۔کیونکہ جب تک مسیح نے خود کشی کا ارادہ نہیں کیا تھا تب تک عیسائیوں میں نیک چلنی اور خدا پرستی کا مادہ تھا۔مگر صلیب کے بعد تو جیسے ایک بند ٹوٹ کر ہر ایک طرف دریا کا پانی پھیل جاتا ہے۔یہی عیسائیوں کے نفسانی جو شوں کا حال ہوا۔کچھ شک نہیں کہ اگر یہ خود کشی مسیح سے بالارادہ ظہور میں آئی تھی تو بہت بیجا کام کیا۔اگر وہی خود کشی کی بجائے وعظ و زندگی وعظ و نصیحت میں صرف کرتا تو مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا۔اس بیجا حرکت سے نصیحت سے کام کرتے دوسروں کو کیا فائدہ ہوا۔ہاں اگر مسیح خود کشی کے بعد زندہ ہو کر یہودیوں کے روبرو تو زیادہ مفید تھا آسمان پر چڑھ جاتا تو اس سے یہودی ایمان لے آتے۔مگر اب تو یہودیوں اور تمام عظمندوں کے نزدیک مسیح کا آسمان پر چڑھنا محض ایک فسانہ اور گپ ہے۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه نے ۳۴، ۳۴۸ کفارہ کا مسئلہ جب ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسیح نے ان کے سارے گناہ اٹھالئے پر ان یہ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کونسی چیز ہو سکتی ہے جو ان کو اعمال کی طرف متوجہ کرے۔اعمال کا ١٨٦ مدعا تو نجات ہے اور یہ ان کو بلا مشقت محنت صرف خوانی مسیح پر اتنا ایمان رکھنے سے (کہ وہ خون مسیح کے بعد اعمال کی کیا ضرورت ہے ؟ ہمارے لئے مر گیا۔ہمارے گناہوں کے بدلہ لعنتی ہوا ) مل جاتی ہے تو اب نجات کے