مسیحی انفاس — Page 214
۲۱۴ TAY نہایت ہی لائق رحم ہے۔اور یہ واقعہ پیش کرنے کے لائق نہیں بلکہ چھپانے کے لائق ہے۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات۔روحانی خزائن۔جلد ۱۲ صفحہ ۳۳۰، ۳۳۱ غرض نجات کے لئے اس منصوبہ پر بھروسہ کر ناصحیح نہیں ہے۔اور گناہ سے باز رہنے کو اس منصوبہ سے کوئی بھی تعلق نہیں پایا جاتا۔بلکہ دوسرے کی نجات کے لئے میں نے اپنی رضامندی خود کشی کرنا گناہ ہے۔اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہر گز مسیح نے اپنی سے صلیب کو منظور رضامندی سے صلیب کو منظور نہیں کیا۔بلکہ شریر یہودیوں نے جو چاہا اس سے کیا۔اور نہیں کیا مسیح نے صلیبی موت سے بچنے کے لئے باغ میں ساری رات دعا کی۔اور اس کے آنسو جاری ہو گئے۔تب خدا نے باعث اس کے تقوے کے اس کی دعا قبول کی اور اس کو صلیبی موت سے بچالیا جیسا کہ خود انجیل میں بھی لکھا ہے۔پس یہ کیسی تہمت ہے کہ مسیح نے اپنی رضامندی سے خود کشی کی۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۶۵ کیا کسی دل کو اس پر اطمینان ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر ساری رات موت کو را سے بچنے کے لئے دعا کر تار ہے۔اور قبول نہ ہو۔ایسا ہی کبھی عقل یہ تجویز نہیں کر سکتی کہ کسی کی خود کشی سے دوسرے کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔اگر مسیح کے روٹی کھانے سے کیا کسی کی خود کشی سے دوسروں کے گلہ بیٹے حواریوں کے پیٹ بھر جاتے تھے۔اور عقل کے نزدیک یہ جائز ہے تو شاید یہ بھی سچ ہو کہ جاسکتے ہیں؟ کسی کے درد سر کا علاج اپنے سر میں پتھر مارنا بھی ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحہ ۱۱۷ اب باقی رہا وہ مسئلہ جو انجیل نے نجات کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السّلام کا مصلوب ہونا اور کفارہ۔اس تعلیم کو قرآن شریف نے قبول نہیں کیا میں تعلیم کو قرآن اور اگر چہ حضرت عیسی کو قرآن شریف ایک برگزیدہ نبی مانتا ہے اور خدا کا پیار اور مقرب شریف کے قبول کیں اگرچہ اور وجیہہ قرار دیتا ہے لیکن اس کو محض انسان بیان فرماتا ہے اور نجات کے لئے اس امر کو کیا۔