مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 632

مسیحی انفاس — Page 163

ایک شیطانی۔اور نعوذ باللہ یسوع نے شیطان میں ہو کر شیطان کے ساتھ اپنا وجود ملایا۔اور لعنت کے ذریعہ سے شیطانی خواص اپنے اندر لئے یعنی یہ کہ خدا کا نافرمان ہوا۔خدا سے بیزار ہوا خدا کا دشمن ہوا۔اب میاں سراج الدین آپ انصاف فرماویں کہ کیا یہ مشن جو مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کوئی روحانی یا معقولی پاکیزگی اپنے اندر رکھتا ہے ؟ کیا دنیا میں اس سے بد تر کوئی اور عقیدہ بھی ہو گا کہ ایک راست باز کو اپنی نجات کے لئے خدا کا دشمن اور خدا کا نافرمان اور شیطان قرار دیا جائے ؟ خدا کو جو قادر مطلق اور رحیم و کریم تھا اس لعنتی قربانی کی کیا ضرورت پڑی ؟ کیا اس لعنتی قربانی کی پھر جب اس اصول کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ کیا اس لیتی قربانی کی تعلیم یہودیوں کی تیاری یا کسی بھی روایات کی تعلیم ہود کو بھی دی تھی کو بھی دی گئی ہے یا نہیں تو اور بھی اس کے کذب کی حقیقت کھلتی ہے کیونکہ یہ بات ظاہر تھی؟ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں انسانوں کی نجات کے لئے صرف یہی ایک ذریعہ تھا کہ اس کا ایک بیٹا ہو اور وہ تمام گنہ گاروں کی لعنت کو اپنے ذمہ لے لے۔اور پھر لعنتی قربانی بن کر صلیب پر کھینچا جائے تو یہ امر ضروری تھا کہ یہودیوں کے لئے توریت اور دوسری کتابوں میں جو یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں اس لعنتی قربانی کا ذکر کیا جاتا۔کیونکہ کوئی عظمند اس بات کو باور نہیں کر سکتا کہ خدا کاوہ ازلی ابدی قانون جو انسانوں کی نجات کے لئے اس نے مقرر کر رکھا ہے ہمیشہ بدلتا ر ہے اور توریت کے زمانہ میں کوئی اور ہو اور انجیل کے زمانہ میں کوئی اور۔قرآن کے زمانہ میں کوئی اور ہو۔اور دوسرے نبی جو دنیا کے اور حصوں میں آئے ان کے لئے کوئی اور ہو۔آپ ہم جب تحقیق اور تفتیش کی نظر سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ توریت اور یہودیوں کی تمام کتابوں میں اس لعنتی قربانی کی تعلیم نہیں ہے۔چنانچہ ہم نے ان دنوں میں بڑے بڑے یہودی فاضلوں کی طرف خط لکھے اور ان کو خدا تعالی کی قسم دے کر پوچھا کہ انسانوں کی نجات کے لئے توریت اور دوسری کتابوں میں تمہیں کیا تعلیم دی گئی ہے؟ کیا یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خدا کے بیٹے کے کفارہ اور اس کی قربانی پر ایمان لاؤ ؟ یا کوئی اور تعلیم ہے ؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ نجات کے بارہ میں نجات کے بارے میں توریت کی تعلیم بالکل قرآن کے مطابق ہے۔یعنی خدا کی طرف سچا توریت کی تعلیم قرآن رجوع کرنا اور گناہوں کی معافی چاہنا اور جذبات نفسانیہ سے دور ہو کر خدا کی رضا کے لئے کے مطابق ہے۔نیک اعمال بجالانا اور اس کے حدود اور قوانین اور احکام اور وصیتوں کو بڑے زور اور سختی کشی کے ساتھ بجالانا یہی ذریعہ نجات ہے جو بار بار توریت میں ذکر کیا گیا جس پر ہمیشہ خدا