مسیحی انفاس — Page 164
کے مقدس نبی پابندی کراتے چلے آئے ہیں اور جس کے چھوڑنے پر عذاب بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔اور ان فاضل یہودیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنی مفصل چٹھیات سے مجھ کو جواب دیا بلکہ انہوں نے اپنے محقق فاضلوں کی نادر اور بے مثل کتابین جو اس بارے میں لکھی گئی تھیں میرے پاس بھیج دیں جواب تک موجود ہیں اور چٹھیات بھی موجود ہیں۔جو شخص دیکھنا چاہے میں دکھا سکتا ہوں اور ارادہ رکھتا ہوں کہ ایک مفصل اور کتاب میں وہ سیب اسناد درج کر دوں۔اب ایک عظمند کو نہایت انصاف اور دل کی صفائی کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ اگر یہی بات سچ ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے یسوع مسیح کو اپنا بیا قرار دے کر اور غیروں کی لعنت اس پر ڈال کر پھر اس لعنتی قربانی کو لوگوں کی نجات کے لئے ذریعہ ٹھرایا تھا ور یہی تعلیم یہودیوں کو ملی تھی تو کیا سبب تھا کہ یہودیوں نے آج تک اس تعلیم کو پوشیدہ رکھا اور بڑے اصرار سے اس کے دشمن رہے اور یہ اعتراض اور بھی قوت پاتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں کی تعلیم کو تازہ کرنے کے لئے ساتھ ساتھ نہبی بھی چلے آئے تھے۔اور حضرت موسیٰ نے کئی لاکھ انسانوں کے سامنے توریت کی تعلیم کو بیان کیا تھا پھر کیونکر ممکن تھا کہ یہودی لوگ ایسی تعلیم کو جو متواتر نبیوں سے ہوتی آئی بھلا دیتے حالانکہ ان کو حکم تھا کہ خدا کے احکام اور وصایا کواپنی چوکھٹوں اور دروازوں اور آستینوں پر لکھیں اور بچوں کو سکھائیں اور خود حفظ کریں۔اب کیا یہ بات سمجھ آسکتی ہے یا کسی کا پاک کا نفس یہ گواہی دے سکتا ہے کہ باوجود اتنی نگہداشت کے سلمانوں کے تمام فرقے یہود کے توریت کی اس پیاری تعلیم کو بھول گئے جس پر ان کی نجات کا مدار تھا۔یہودی نہ آج سے بلکہ قدیم اس پیاری سے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ توریت میں وہی باتیں ذریعہ نجات بتلائی گئی ہیں جو قرآن میں ذریعہ نجات بتلائی گئی ہیں۔چنانچہ قرآن شریف کے وقت میں بھی انہوں نے یہی گواہی دی اور اب بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔اور اسی مضمون کی ان کی چٹھیاں اور نیز کتابیں میرے پاس پہنچی ہیں۔اگر یہودیوں کو نجات کے لئے اس لعنتی قربانی کی تعلیم دی جاتی تو کچھ سبب معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں وہ اس تعلیم کو پوشیدہ کرتے۔ہاں ممکن تھا کہ وہ يسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کر کے نہ مانتے اور اس کی صلیب کو بچے بیٹے کی صلیب تصور نہ کرتے اور یہ کہتے کہ وہ حقیقی بیٹا جس کی قربانی سے دنیا کو نجات ملے گی یہ نہیں ہے۔بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں ظاہر ہو گا۔مگر یہ تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ تمام فرقے یہود کے ۱۶۴