مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 632

مسیحی انفاس — Page 162

۱۶۲ واضح ہو کہ عیسائیوں نے یہ بڑی غلطی کی ہے کہ یسوع کی نسبت لعنت کا اطلاق جائز رکھا۔گو وہ تین دن تک ہی ہو یا اس سے بھی کم۔کیونکہ لعنت ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے۔اور کسی شخص کو اس وقت لعنتی کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل خدا سے بالکل بر گشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے۔اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ لعنت قرب کے مقام سے رد کرنے کو کہتے ہیں۔اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور اطاعت سے دور جا پڑے اور در حقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔لفظ لعنت کے یہی معنی ہیں جس پر تمام ایل لغت نے اتفاق کیا ہے۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر در حقیقت یسوع مسیح پر لعنت پڑ گئی لعنت کا مقسوم تھی تو اس لازم آتا ہے کہ در حقیقت وہ مورد غضب الہی ہو گیا تھا۔اور خدا کی معرفت اور اطاعت اور محبت اس کے دل سے جاتی رہی تھی اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو گیا تھا اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو گیا تھا جیسا کہ لعنت کا مفہوم ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ لعنت کے دنوں میں در حقیقت کافر اور خدا سے برگشتہ برگشتہ اور خدا کا دشمن اور شیطان کا حصہ اپنے اندر رکھتا تھا۔پس یسوع کی نسبت ایسا اعتقاد کرنا گویا نعوذ باللہ اس کو شیطان کا بھائی بناتا ہے۔اور میرے خیال میں ایک راست باز نبی کی نسبت ایسی بیا کی کوئی خدا ترس نہیں کرے گا بجز اس شخص کے جو خبیث طبع اور ناپاک طبع پس جبکہ یہ بات باطل ہوئی کہ حقیقی طور پر یسوع مسیح کا دل مورد لعنت ہو گیا تھا۔تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسی لعنتی قربانی بھی باطل اور نادان لوگوں کا اپنا منصوبہ ہے۔اگر نجات اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ اول یسوع کو شیطان اور خدا سے برگشتہ لعنت ہے ایسی نجات اور خدا سے بیزار ٹھرایا جائے تو لعنت ہے ایسی نجلت پر ! ! ! اس سے بہتر تھا کہ عیسائی اپنے لئے دوزخ قبول کر لیتے لیکن خدا کے ایک مقرب کو شیطان کا لقب نہ دیتے۔افسوس کہ ان لوگوں نے کیسی بے ہودہ اور ناپاک باتوں پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ایک طرف تو خدا کا بیٹا اور خدا سے نکلا ہوا اور خدا سے ملا ہوا فرض کرتے ہیں اور دوسری طرف شیطان کا لقب اس کو دیتے ہیں۔کیونکہ لعنت شیطان سے مخصوص ہے اور لعین شیطان کا نام ہے اور لعنتی وہ ہوتا ہے جو شیطان سے نکلا اور شیطان سے ملا ہوا اور خود شیطان ہے۔دو ستم کی تثلیث پس عیسائیوں کے عقیدہ کے رو سے یسوع میں دو قسم کی تثلیث پائی گئی۔ایک رحمانی اور