مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 632

مسیحی انفاس — Page 142

۱۴۴ ۱۲۱ کرتے ہیں کہ وہ مشرکانہ تعلیم کو بناویں۔خیال کرنا چاہئے کہ کیسے دور از عقل و فہم ر تکلفات انہوں نے کئے ہیں۔یہاں تک کہ توریت پیدائش کے باب ۲۶ / ۱ میں جو سیہ عبارت ہے کہ خدا نے کہا کہ ”ہم انسان کو اپنی شکل پر بنائیں گے۔" یہاں سے عیسائی لوگ یہ بات نکالتے ہیں کہ ہم کے لفظ سے تثلیث کی طرف اشارہ ہے۔مگر یادر ہے کہ عبرانی میں اس جگہ لفظ نعسہ ہے جس کے معنے ہیں نصنع۔یہ لفظ تھوڑے سے تغیر سے اسی عربی لفظ یعنی نصنع سے ملتا ہے اور عربی اور عبرانی کا یہ محاورہ ہے کہ اپنے تئیں یا کسی دوسری کو عظمت دینے کے لئے تم یا ہم کا لفظ بولا کرتے ہیں مگر ان لوگوں نے مخلوق پرستی کے جوش سے محاورہ کی طرف کچھ بھی خیال نہیں کیا اور صرف یہ لفظ پا کر کہ ہم بنائیں گے تثلیث کو سمجھ لیا۔بہت ہی افسوس کی جگہ ہے کہ مخلوق پرستی سے پیار کر کے ان بیچاروں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔لیکن صرف تین کی حد بندی انہوں نے اپنی طرف سے کرلی ہے۔ورنہ جمع کے صیغہ میں تو تین سے زیادہ صدہا پر اطلاق ہو سکتا ہے۔یہ ضرور نہیں کہ جمع کے صیغہ سے صرف تثلیث ہی نکلتی ہے۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۹۳ تا ۹۵ کیا کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ خدائے قادر باوجود اپنی بے انتہا طاقتوں کے کسی دوسرے کی مدد کا محتاج رہے۔ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ عیسی کے ساتھ خدا تھا کہ جو جب تینوں خدا اس کے اپنی مخلصی کے لئے تمام رات رو رو کر دعا کر تار ہا تجب کہ جب تینوں خدا اس کے اندر تھے اندر تھے تو وہ چوتھا خدا کون تھا جس کی جناب تو وہ چو تھا خدا کون تھا جس کی جناب میں اس نے رورو کر ساری رات دعاکی اور پھر وہ دعا میں اس نے رو رو کر قبول بھی نہ ہوئی۔ایسے خدا پر کیا امید رکھی جائے جس پر ذلیل یہودی غالب آئے اور اس ساری رات دعا کی تھی ١٢٢ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک سولی پر نہ چڑہا دیا۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۹ وضع عالم میں خدا تعالیٰ نے توحید کا ثبوت رکھ دیا ہے۔وضع عالم میں کرودیت ہے پانی ستارے آگ وغیرہ۔یہ چیزیں سب گول ہیں۔چونکہ کرہ میں وحدت ہوئی وضع عالم میں کرویت ہے۔اس لحاظ سے اس میں جہات نہیں ہوتی ہیں۔پس یہ وضع عالم میں توحید الہی کا ثبوت ہے۔پانی کا ایک قطرہ دیکھو تو وہ گول ہو گا۔ایسا ہی اجرام بھی اور آگ کا فلسفہ۔