مسیحی انفاس — Page 143
۱۴۳ بھی۔آگ کی ظاہری حالت سے اگر کوئی کہے کہ یہ گول نہیں ہوتی تو یہ اس کی غلطی۔کیونکہ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ آگ کا شعلہ دراصل گول ہوتا ہے مگر ہوا اس کو منتشر کرتی ہے۔عیسائیوں نے بھی۔یہ بات مان لی ہے کہ جہاں تثلیث نہیں پہنچی۔یعنی تثلیث کی تبلیغ نہیں ہوئی وہاں ان سے توحید کی باز پرس ہوگی کیونکہ وضع عالم میں توحید کا ثبوت ملتا کی ہے اگر خدا تین ہوتے تو ضرور تھا کہ سب اشیاء مثلث نما ہوتیں۔وضع عالم کی کرویت سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آدم ہی سے شروع ہو کر آدم ہی پر سلسلہ ختم ہوتا ہے۔کیونکہ محیط دائرہ کا خط جس نقطہ سے چلتا ہے اس پر ہی جا کر ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے مسیح موعود جو خاتم الخلفاء ہے اس کا نام بھی خدا نے آدم ہی رکھا ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ میں درج ہے۔اردتُ أَنْ أَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ أَدَمَ - ملفوظات۔جلد ۲ صفحہ ۳۹۱ نیز دیکھیں۔ملفوظات۔جلد ۲ صفحہ ۵۹ اس زمانہ میں مذہب کے نام سے بڑی نفرت ظاہر کی جاتی ہے اور مذہب حقہ کی طرف آنا تو گویا موت کے منہ میں جانا ہے۔مذہب حق وہ ہے جس پر باطنی شریعت بھی شہادت دیے اٹھے۔مثلاً ہم اسلام کے اصول توحید پیش کرتے ہیں اور کہتے کار قدرت سے بات ہے کہ خدا ایک ہی ہیں کہ یہی حقانی تعلیم ہے کیونکہ انسان کی فطرت میں توحید کی تعلیم ہے اور نظارہ قدرت بھی اس پر شہادت دیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے مخلوق کو متفرق پیدا کر کے وحدت ہی کی طرف کھینچا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدت ہی منظور تھی۔پانی کا ایک قطرہ اگر چھوڑیں تو وہ گول ہو گا۔چاند، سورج سب اجرام فلکی گول ہیں اور کرویت وحدت کو چاہتی ہے۔ہم اس وقت بے انتہا خداوں کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں۔کیونکہ یہ تو ہے ہی ایک بیہودہ اور بے معنی اعتقاد۔اور بے شمار خدا ماننے سے امان اٹھ جاتا ہے۔مگر ہم تثلیث کا ذکر کرتے ہیں۔ہم نے جیسا کہ قدرت کے نظائر سے ثابت کیا ہے کہ خدا ایک ہی ہے۔اس طرح پر اگر خدا معاذ اللہ تین ہوتے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں تو چاہئے تھا کہ ہے۔