مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 632

مسیحی انفاس — Page 128

۱۲۸ پہلے اوروں کی طرح آپ تھے۔اور پھر ڈپٹی صاحب موصوف تین اقنوم کا ذکر فرماتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپ کا ذکر بے ثبوت ہے آپ نے اس پر کوئی عقلی دلیل ہر ایک نبوت کے نہیں دی۔اور یوں تو ہر ایک نبوت کے سلسلہ میں تین جزوں کا ہونا ضروری ہے اور آپ سلسلہ میں تین جزوں کا ہونا ضروری ہے۔صاحبوں کی یہ خوش فہمی ہے کہ ان کا نام تین اقنوم رکھا۔روح القدس اسی طرح حضرت نازل ہوا جس طرح قدیم سے نبیوں پر نازل ہوتا تھا۔نئی بات کون سی ی پر جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۲۳۹، ۲۴۰ جنگ مقدس کے مباحثہ میں عیسائیوں سے بڑا بھاری مطالبہ یہ تھا کہ وہ ابن مریم کی خدائی کو عقل اور نقل کی رو سے ثابت کریں۔سو عقل تو دور سے ایسے عقیدہ پر نفرین کرتی تھی۔اس لئے انہوں نے عقل کا نام ہی نہ لیا۔کیونکہ عقل اسلامی توحید تک ہی تعلمت عقل و نقل سے گواہی دیتی ہے اور اسی لئے تمام عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ اگر ایک گروہ ایسے کسی علمیت نہیں۔جزیرہ کا رہنے والا ہو جس کے پاس نہ قرآن پہنچا ہو اور نہ انجیل اور نہ اسلامی توحید پہنچی ہو اور نہ نصرانیت کی تشکیت، ان سے صرف اسلامی توحید کا مواخذہ ہو گا۔جیسا کہ پادری فنڈل نے میزان الحق میں یہ صاف اقرار کیا ہے۔پس لعنت ہے ایسے مذہب پر جس کے اصل الاصول کی سچائی پر عقل گواہی نہیں دیتی۔اگر انسان کے کانشنس اور خداداد عقل میں متثلیث کی ضرورت فطرتاً مرکوز ہوتی تو ایسے لوگوں کو بھی ضرور تثلیث کا مواخذہ ہو تا جن تک تثلیث کا مسئلہ نہیں پہنچا۔حالانکہ عیسائی عقیدہ میں بالاتفاق یہ بات داخل ہے کہ جن لوگوں تک تثلیث کی تعلیم نہیں پہنچی ان سے صرف توحید کا مواخذہ ہو توحید کے نقوش انسانی گا۔اس سے ظاہر ہے کہ توحید ہی وہ چیز ہے جس کے نقوش انسان کی فطرت میں مرکوز فطرت میں مرکوز ہیں۔ہیں۔باقی رہا یسوع کی خدائی کو منقولات سے ثابت کرنا۔سوجنگ مقدس میں آئقم مقتول ہر گز ثابت نہ کر سکا کہ یہی تعلیم جو انجیل کے حوالہ سے اب ظاہر کی جاتی ہے موسیٰ کی توریت میں موجود ہے۔ظاہر ہے کہ اگر باپ بیٹے روح القدس کی تعلی د دوسرے لفظوں میں تثلیث کہلاتی ہے۔بنی اسرائیل کو دی جاتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ سب کے سب اس کو بھول جاتے جس تعلیم کو موسیٰ نے چھ سات لاکھ یہود کے سامنے بیان