مسیحی انفاس — Page 129
۱۲۹ کیا تھا اور بار بار اس کے حفظ رکھنے کے لیے تاکید کی تھی اور پھر حسب زیم عیسائیاں متواتر خدا کے تمام نبی یسوع کے زمانہ تک اس تعلیم کو تازہ کرتے آئے ایسی تعلیم یہود کو کیونکر بھول سکتی تھی۔" کیا یہ بات ایک محقق کو تعجب میں نہیں ڈالتی کہ وہ تعلیم جو لاکھوں یہودیوں کو دی گئی تھی اور خدا کے نبیوں کی معرفت ہر صدی میں تازہ کی گئی تھی جو اصل مدار نجات تھی اس کو یہود کے تمام فرقوں نے بھلا دیا ہو۔حلانکہ یہود اپنی تالیفات میں صاف گواہی دیتے ہیں کہ ایسی تعلیم ہمیں کبھی نہیں ملی۔اور نہیں ماننا پڑتا ہے کہ یہود اس بات میں ضرور کچے ہیں۔کیونکہ اگر تنزل کے طور پر یہ بھی فرض کر لیں کہ صرف یسوع کے زمانہ تک یہود میں تشکیث کی تعلیم پر عمل تھا۔تب بھی یہ فرض صریح باطل ٹھہرتا ہے۔کیونکہ اگر ایساعمل ہوتا تو ضرور اس کے آثار یہود کی منقولات اور تالیفات میں باقی رہ جاتے۔اور غیر ممکن تھا کہ یہود یک دفعہ اس تعلیم سے روگردان ہو جاتے کہ جو تعامل سے روگردان ہو جاتے کہ جو تعامل کے طور پر برابر ان میں چلی آئی تھی۔اور اگر کسی پیش گوئی میں یہود کو خبر دی جاتی کہ ایک خدا بھی عورت کے پیٹ سے پیدا ہونے والا ہے تو پیش گوئی کے ایسے مفہوم سے جو نبیوں کی معرفت سبق کے طور پر ان کو ملا تھا ہر گز انکار نہ کرتے۔ہاں یہ ممکن تھا کہ یہ عذر پیش کرتے کہ ایک خدا ایک عورت کے پیٹ میں سے نکلنے والا تو ضرور ہے مگر وہ خدا ابن مریم نہیں ہے بلکہ وہ کسی دوسرے وقت میں آئیگا۔حالانکہ ایسے عقیدہ پر یہود ہزار لعنت بھیجتے ہیں۔پس میں پوچھتا ہوں کہ جنگ مقدس میں آتھم نے ان باتوں کا کیا جواب دیا ہے۔کیا یہود کی گواہی سے ثابت کیا کہ نبیوں سے یہی تعلیم ان کو ملی تھی۔یا نبیوں کی معرفت جو پیش گوئیوں کے معنے ان کو سمجھائے گئے تھے وہ یہی معنے ہیں۔سچ ہے کہ آتھم اور اس کے ہم مشربوں نے بائبل میں سے چند پیش گوئیاں پیش کی تھیں مگر وہ ہرگز ثابت نہ کر سکے کہ یہود جو وارث توریت کے ہیں۔وہ یہی معنے کرتے ہیں۔صرف تاویلات رکیکہ پیش کیں۔مگر ظاہر ہے کہ صرف خود تراشیدہ تاویلات سے ایسا بڑا دعولی جو عقل اور نقل کے برخلاف ہے ثابت نہیں ہو سکتا۔مثلاً یہ لکھنا کہ " عمانوامل نام رکھنا " یہ یسوع کے حق میں پیش گوئی ہے۔حلانکہ یہود نے بڑی صفائی سے ثابت کر دیا ہے کہ یسوع کی پیدائش سے مدت