حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 15 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 15

26 25 چوتھی پیشگوئی اس میں یہ تھی کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔اب اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا کہ وہ دس برس میں ہیں برس کا ہو جائے گا۔بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے عظیم الشان کاموں کو جلد جلد مکمل کرے گا اور اس کی شہرت اور عظمت میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔اس کا حال یوں سنو کہ آپ دنیاوی علم کے لحاظ سے چاہیے تو یہ تھا کہ آپ بڑی بڑی یو نیورسٹیوں سے اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرتے۔لیکن اس لحاظ سے تو آپ میٹرک سے بھی آگے نہ جاسکے۔صحت آپ کی اتنی کمزور کہ کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا۔محنت کہاں سے کرتے اور ڈگریاں کس طرح ملتیں۔علاوہ ازیں گاؤں میں رہنا جہاں نہ یو نیورسٹی اور نہ کالج۔لیکن یہ کوئی انسانی کام تو نہیں یہ تو خدا کا کہا پورا ہونا تھا اس لیے باوجود اس ساری کمی کے اللہ تعالیٰ نے اپنی بات پوری کی۔آپ ابھی بہت ہی چھوٹی عمر کے تھے یعنی 25 برس کے ہی تھے کہ جماعت نے آپ کو اپنا خلیفہ اور امام پچن لیا۔اور یوں آپ پر ساری جماعت کی ذمہ داریاں آن پڑیں لیکن ساری جماعت کو علم ہو گیا کہ آپ ہمارے امام ہیں اور پھر اس وقت جماعت کے بعض بڑے بڑے لوگوں نے اپنی علیحدہ جماعت بنا کر آپ کے لیے بڑے مسائل پیدا کر دیئے۔لیکن آپ نے بڑی ہمت اور بہادری سے وہ سب مسائل حل کر دیئے۔جماعت میں ایک قسم کا سکون اور چین پیدا کر دیا۔پھر یہ کہ آپ نے اپنی تقریروں سے اور تحریروں اور کتابوں سے ساری جماعت کے لیے ایک ایسا علمی ذخیرہ فراہم کر دیا کہ سب لوگ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔اور اگر آپ پر خدا کا سایہ نہ ہوتا تو یہ سب کیسے ہو جاتا ؟ آپ نے یورپ میں اسلام کے پھیلانے کے لیے مساجد کی تعمیر کا آغاز کیا۔سب سے پہلی مسجد تو لنڈن میں بنوائی۔یہ مسجد عورتوں نے اپنے چندہ سے بنائی۔پھر ہالینڈ میں۔پھر سوئٹزر لینڈ میں۔پھر جرمنی میں دو مساجد بنوائیں۔کون کہہ سکتا تھا کہ یورپ کے ان تہذیب یافتہ ملکوں میں یہ چھوٹی سی غریب جماعت اتنی شاندار مساجد تعمیر کرے گی۔اور یورپ میں اسلام کی بنیا درکھ دے گی۔پھر آپ نے دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمعے شروع کروائے۔انگریزی ترجمہ تو دیر ہوئی شائع کروا بھی دیا پھر اس کے ساتھ ہی جرمن ، ڈچ ڈینش اور مشرقی افریقہ کی سواحیلی زبان کے ترجمے بھی شائع کروادیئے۔اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی ایک تفسیر لکھنی شروع کی جو بہت بڑا عظیم الشان کام تھا۔اور کئی سال کی سخت محنت کے بعد کئی ہزار صفحات کی تفسیر لکھ دی۔اس کے ساتھ ہی چونکہ یہ بہت بڑی تفسیر تھی اور کئی حصوں میں تھی اس لیے آپ نے اسے مختصر بھی فرمایا اور یہ تفسیر صغیر کے نام سے شائع ہوئی۔چونکہ آپ بیمار ہو گئے اس لیے بڑی تفسیر آپ مکمل نہ کر سکے اور اسی کی روشنی میں پھر انگریزی کی تفسیر تیار ہوئی جو پانچ جلدوں میں شائع ہوئی لیکن چونکہ یہ تفسیر بھی بہت بڑی تھی اور ہر شخص نہ اسے خریدنے کی طاقت رکھتا تھا اور نہ ہی روزانہ اسے مطالعہ کر سکتا تھا اس لیے اس کو چھوٹا کر کے ایک ہی جلد میں شائع کیا۔یہ سب کس قدر مشکل کام تھے اور اگر خدا کا سایہ ان کے سر پر نہ ہوتا تو یہ کام کب اور کیسے ہو جاتا۔بچو! 1947 ء میں انگریز ہندوستان کو آزادی دے کر چلے گئے اور پاکستان ایک علیحدہ ملک بن گیا۔لیکن ہمارا مرکز قادیان ہندوؤں کے حصے میں آ گیا۔بڑی قتل وغارت شروع ہوگئی اور ممکن تھا کہ بے شمار احمدی قتل ہو جاتے لیکن آپ نے اس سارے معاملہ کو ایسی عقلمندی اور دانش مندی سے حل کیا کہ شاید ہی کسی احمدی کی جان گئی ہو۔قادیان کے سب احمدی کیا مرد کیا عورتیں اور کیا بچے سب خیر و عافیت سے پاکستان پہنچ گئے۔پھر اس سے بھی بڑا کارنامہ سنو۔اور وہ یہ کہ جب ہم لوگ پاکستان پہنچے تو ہم لوگوں کے پاس کوئی مرکز نہ تھا۔اپنا کوئی گاؤں یا شہر نہ تھا کوئی احمدی کہیں اور کوئی کہیں۔اس لیے آپ نے بڑی دعاؤں اور تلاش کے بعد ایک جگہ منتخب کی جسے آپ اور ہم اب ربوہ کہتے ہیں۔زمین کا یہ ڈھائی میل لمبا اور میل بھر چوڑا ٹکڑا حکومت سے روپیہ دے کر خرید لیا۔اور یہاں ایک نئے www۔alislam۔org