حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 14 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 14

24 23 مختلف پیشگوئیاں بتانی ہیں اس لیے اس میں سے صرف چار پانچ با تیں ہی منتخب کی ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا نے بتایا کہ ایک لڑکا پیدا ہوگا۔اب تم خود سوچ لو کہ کیا خدا کے ساتھ زبردستی کی جاسکتی ہے کہ وہ لڑکا ضرور دے۔اور وہ لڑکے کی بجائے لڑکیاں ہی دے سکتا ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ لڑکیاں ہی دیتا تو یہ پیشگوئی کہاں پوری ہوتی۔پھر یہ کہ تم نے دیکھا ہوگا کہ کئی لوگ ہیں کہ جن کے نہ لڑکا ہوتا ہے اور نہ لڑ کی سینکڑوں دوائیوں اور علاج کے باوجود اُن کے ہاں اولاد ہوتی ہی نہیں تو پھر یہ کہنا کہ لڑکا پیدا ہوگا تو یہ عظیم الشان پیشگوئی نہیں تو اور کیا ہے۔اور دیکھو خدا تعالیٰ نے یہ لڑکا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے بھی دیا۔۔اب دوسری بات لو۔وہ یہ کہ یہ لڑکا نو برس کے اندر پیدا ہوگا۔اور اگر نو برس میں نہ پیدا ہوتا تو پھر کوئی خدا تعالیٰ کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔وہ تو قادر مطلق ہے وہ ہم سب کا مالک ہے۔ہم تو اُس کے بندے اور غلام ہیں۔وہ چاہے تو ایک برس کے اندر دے دے اور نہ چاہے تو پچاس برس تک نہ دے۔لیکن اگر واقعی یہ پیشگوئی سچی تھی اور خدا نے ہی یہ بات اپنے پیارے بندے کو بتائی تھی تو پھر خواہ کچھ بھی ہو جا تا نو برس سے ایک دن بھی زیادہ ہونا ممکن نہ تھا۔وہ اپنی بات ہر رنگ میں پوری کرتا ہے اور پھر خواہ کچھ بھی ہو جائے اس کی بات رڈ نہیں ہو سکتی۔اور نہ ہی کی جاسکتی ہے۔پس یہ لڑکا 9 برس تو دور کی بات ہے تین برس کے اندر یعنی 12 جنوری 1889ء کو پیدا ہو گیا۔کیا اسے پیشگوئی پوری ہونا کہتے ہیں یا نہیں۔پس پیشگوئی کا یہ حصہ بڑی شان کے ساتھ پورا ہو گیا۔اب لو تیسری بات جو ہم نے پیچھے ذکر کی ہے اور وہ یہ کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات نعوذ باللہ اپنے دل سے ہی بنائی ہوتی تو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں کو خدا عزت ہی کیوں دیتا وہ بیٹا ہی کیوں دیتا۔اور پھر وہ نو برس میں کیوں دیتا پندرہ برس میں کیوں نہ دیتا۔اگر دے بھی دیا تو یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ وہ اندھا، کانا لہنگڑا لو لا یا پاگل ہی پیدا ہوتا۔پھر یہ کہ اگر لڑ کا صحیح اور تندرست اور 9 برس کے اندر ہی پیدا ہو گیا تھا تو بعد میں بڑے ہو کر وہ کوئی برا آدمی بھی بن سکتا تھا۔یا کوئی قلی مزدور بنتا یا کوئی عام کسان یا دکان دار بن جاتا جسے اپنے ہی گاؤں میں کوئی نہ جانتا۔تو دیکھو بچو! یہ بات خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا اور نہ ہی یقین سے کہہ سکتا ہے کہ میرا بیٹا بڑا ہو کر عزت اور شہرت کا مالک ہوگا۔اور پھر اگر وہ یہ بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے کہے اور پھر وہ بات بالکل اسی طرح پوری ہو جائے تو پھر تو وہ یقیناً کچی پیشگوئی ہے۔اب اس روشنی میں اس پیشگوئی پر غور کرو اور دیکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ لڑکا پیدا ہوا۔9 سال میں پیدا ہوا۔وہ زندہ رہا۔جوان ہوا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جماعت احمدیہ کا امام اور سربراہ بنایا وہ لاکھوں احمدیوں کا خلیفہ بنا اور یہ تھے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مبشر اولاد میں سے سب سے بڑے بیٹے تھے جو اس پیشگوئی کے مطابق حضور کے ہاں پیدا ہوئے۔تو دیکھو یہ کتنی بڑی عظمت ہے اور کس قدر عزت اور احترام کی بات ہے کہ سب احمدیوں نے آپ کو اپنا سردار تسلیم کیا۔آپ کو عزت واحترام اور اطاعت کی نظروں سے دیکھا۔آپ کے حکم کو بجا لانے میں اپنی سعادت سمجھی۔ہر رنگ میں اس کی خدمت کو اپنے لیے عزت اور برکت کا باعث سمجھا۔اور پھر ایک وقت آیا کہ ۱۹۴۴ء میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے الہام کے ذریعہ ان کو یہ بھی بتا دیا کہ آپ ہی وہ لڑکے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی اور الہام میں وعدہ فرمایا تھا اور آپ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلح موعود قرار دیئے گئے ہیں۔www۔alislam۔org