حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 16
28 27 شہر کی بنیاد رکھ دی گئی۔یہ وہ جگہ تھی جس کے چاروں طرف سوکھی اور خشک پہاڑیاں اور چٹانیں اور زمین شور اور کلر زدہ تھی۔درخت تو در کنار گھاس کا پتا نظر نہ آتا تھا۔پانی کا نام ونشان نہ تھا۔ہم نے جب 1948 ء میں یہاں پر خیمے لگائے تو عجیب نظارہ تھا دور دور تک کوئی آبادی نظر نہ آتی تھی۔رات کو ہوا سائیں سائیں کرتی دن کو بگولے اور جھگڑہ چلتے۔تیز لوئیں چلا کرتیں۔چند لوگ تھے جنہیں دیکھنے والے دیوانے اور پاگل کہا کرتے۔یہی دیوانے کئی ماہ ان خیموں میں رہے۔دور سے پانی لایا کرتے۔تقریباً 10 کلومیٹر دور چنیوٹ کا شہر تھا وہاں سے دال سبزی اور ضرورت کی دوسری چیزیں خرید لاتے۔اسی طرح مہینوں گذر گئے اور پھر اس کے بعد گارے اور مٹی کے چند کچے گھر بنا لیے۔اور اپنے دفتر بھی اسی طرح بوسیدہ اور پرانی کھڑکیوں اور دروازوں کے ساتھ کچی اینٹوں کے بنا لیے تا کہ کام شروع ہو جائے۔اب تو ایک تھا سا گاؤں بن گیا پاس ہی ریل گاڑی گزرتی تھی وہ بھی ٹھہرنی شروع ہوگئی ربوہ ریلوے اسٹیشن بن گیا۔دوسری طرف بڑی سڑک گزرتی تھی جس پر سے لا ہور اور فیصل آباد اور سرگودھا جانے والی بسیں گزرتی تھیں وہ بھی ٹھہرنی شروع ہو گئیں۔یوں آمد ورفت کا اچھا بھلا سامان ہو گیا۔رفتہ رفتہ پکی اور مستقل عمارتیں بننی شروع ہو گئیں۔لیکن پانی کی شدید تکلیف تھی۔آخر ہمارا یہی خلیفہ ربوہ آیا اور دعاؤں سے ایک جگہ کی نشاندہی کر دی۔اور جب وہاں کھودا تو پانی نکل آیا اور پھر اس کے بعد پانی کی تو بہار آگئی۔لیکن یہ پانی صحت کے لیے کچھ مفید نہ تھا اس میں وہ ضروری اجزاء نہ تھے جو اچھے پانی میں ہونے ضروری ہیں لیکن کافی عرصہ کے بعد ایک ٹنکی بن گئی جس میں دریا سے پانی لا کر ڈالا گیا اور یہ پانی بہت عمدہ تھا۔اب آہستہ آہستہ آبادی بڑھنی شروع ہوگئی۔ڈاک خانہ بن گیا پھر 1955 ء میں بجلی بھی آگئی۔ٹیلیفون لگ گئے اور ربوہ ایک تیزی سے ترقی پذیر شہر بن گیا۔جہاں آج غالبا دنیا کی ہر نعمت میسر ہے۔اب دیکھو بچو ! یہ اسی لڑکے کا کارنامہ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ: ” خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا اور وہ جلد جلد بڑھے گا“۔اگر خدا کا سایہ اس کے سر پر نہ ہوتا تو کیا یہ سارے کام اس کے لیے کبھی ممکن بھی تھے؟ یہ تو خدا کا کہا تھا۔جو پورا ہوا۔اور کون ہے جو خدا کے کہے کو پورا ہونے سے روک دے؟۔اب ایک اور بات لو۔پیشگوئی میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ذرا دل میں سوچو کہ گاؤں میں پیدا ہونے والا ایک بچہ اور وقت بھی وہ جبکہ نہ ہوائی جہاز ، نہ موٹریں نہ ریڈیو اور نہ ٹی وی۔یہ بات کیسے پوری ہوگی۔دنیا کے کناروں تک کیسے شہرت پائے گا۔ابھی جماعت احمدیہ کی بنیاد بھی نہیں رکھی گئی تھی جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ پیشگوئی بتائی لیکن خدا سچے وعدوں والا ہے وہ کبھی غلط بات نہیں کہتا اس کی بتائی ہوئی سب باتیں بچی ہوتی ہیں۔پیارے بچو! اس لڑکے کی پیدائش کے ساتھ ہی جماعت کی بنیاد رکھ دی گئی۔یعنی حضور نے بیعت لینے کا سلسلہ شروع کر دیا اور اب حضور کی جماعت باقاعدہ ایک جماعت بن گئی۔لیکن آپ 1914ء میں جماعت کے خلیفہ بنے۔اس وقت ہندوستان سے باہر جماعت کا صرف ایک مشن تھا جولنڈن میں قائم کیا گیا تھا۔دوسرا مشن 1915ء میں جزیرہ ماریشس میں آپ نے ہی قائم کیا۔اگر کبھی آپ ماریشس کے رہنے والوں سے بات کریں۔تو آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارا جزیرہ دنیا کا کنارہ ہے لو خدا کی بات تو 1915ء میں ہی پوری ہوگئی کہ آپ کا نام دنیا کے کنارے تک پہنچ گیا۔لیکن یہ بات ہم تمہارے علم کے لیے بتا رہے ہیں کہ آپ کی زندگی میں ہی جماعت احمدیہ کے مشن دنیا کے پچاس مختلف ملکوں میں کھلے۔یہ مشرق میں بھی تھے اور مغرب میں بھی۔شمال میں بھی اور جنوب میں بھی۔کالوں میں بھی اور گوروں میں بھی سرخ لوگوں میں بھی اور زرد میں بھی۔اگر سب کی فہرست لکھی جائے۔تو www۔alislam۔org