مسیح اور مہدیؑ — Page 687
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 687 حرف آخر نسبت قطعی طور پر مجھنا چاہئیے کہ وہ علامتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائیں یا بیان فرما ئیں مگر ان سے ان کے ظاہری معنے مراد نہ تھے کیونکہ جب علامات کا تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد دوسرے کا ظاہر ہونا ضروری ہے، تو جو علامت اِس نظام سے باہر رہ جائے اور ظاہر نہ ہو اس کا باطل ہونا ثابت ہوگا۔دیکھو یہ علامتیں کیسی ایک دوسرے کے بعد ظہور میں آئیں (1) چودھویں صدی میں سے چودہ برس گذر گئے جس کے سر پر ایک مجتہ کا پیدا ہونا ضروری تھا (2) صلیبی حملے مع مخش گوئی اسلام پر نہایت زور سے ہوئے جو کسر صلیب کرنے والے مسیح موعود کو چاہتے تھے۔(3) ان حملوں کے کمال جوش کے وقت میں ایک شخص ظاہر ہوا جس نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔(4) آسمان پر حدیث کے موافق ماہ رمضان میں سورج اور چاند کا گسوف خوف ہوا۔(5) ستارہ ذواسنین نے طلوع کیا وہی ستارہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا جس کی نسبت حدیثوں میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ آخر زمان یعنی مسیح موعود کے وقت میں نکلے گا۔(6) ملک میں طاعون پیدا ہوا ابھی معلوم نہیں کہاں تک انجام ہو۔یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح کے زمانہ میں طاعون پھوٹے گی۔(7) حج بند کیا گیا۔یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ آخر زمان یعنی مسیح کے زمانہ میں لوگ حج نہیں کر سکیں گے۔کوئی روک واقع ہوگی۔(8) ریل کی سواری پیدا ہوگئی۔یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو صبح اور شام اور کئی وقت چلے گی اور تمام مدار اس کا آگ پر ہوگا اور صدہا لوگ اُس میں سوار ہوں گے (9) باعث ریل اکثر اونٹ بے کار ہو گئے۔یہ بھی حدیثوں اور قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں جو مسیح موعود کا زمانہ ہوگا اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔(10) جاوا میں آگ نکلی اور ایک مدت تک کنارہ آسمان سُرخ رہا۔یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسی آگ نکلے گی۔(11) دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکالی گئیں۔یہ قرآن شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں کئی نہریں نکالی جائیں گی۔ایسا ہی اور بھی بہت سی علامتیں ظہور میں آئیں جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں۔اب چونکہ ضرور ہے کہ تمام علامتیں یکے بعد از دیگرے واقع ہوں اس لئے یہ ماننا پڑا کہ جوعلامت ذکر کردہ عنقریب وقوع میں نہیں آئے گی وہ یا تو جھوٹ ہے جوملایا گیا اور یایہ بھناچاہئیے کہ وہ اور معنوں سے یعنی بطور استعارہ یا مجاز و قوع میں آگئی ہے۔(ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 312-314ایڈیشن 2008)