مسیح اور مہدیؑ — Page 686
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 686 حرف آخر حرف آخر آخر میں حضرت بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کے مبارک ارشادات پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں۔آپ کو بذریعہ الہام جب حضرت عیسی کی وفات اور مثیل مسیح ہونے کی خبر دی گئی تو فرمایا: چنانچہ۔۔۔یہ الہام ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔وَكَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُولاً (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 402 ایڈیشن 2008) کیا شک ہے ماننے میں تمھیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 ٹائٹل پیچ ) حیات عیسی کا خلاف قرآن عقیدہ جو عیسائی مذہب کی ترویج کا موجب ہے، اس کی تردید میں فرمایا: و بجزه موت مسیح صلیبی عقیدہ پر موت نہیں آسکتی ، سو اس سے فائدہ کیا کہ برخلاف تعلیم قرآن اس کو زندہ سمجھا جائے۔اس کو مرنے دوتا یہ دین زندہ ہو۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 17 ایڈیشن 2008) 1991 سے ہی آپ نے یہ صراحت فرما دی کہ مہدی اور مسیح ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔فرمایا: ابن ماجہ اور حاکم نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ لا مھدی الاعیسیٰ یعنی بجر بیسی کے اُس وقت کوئی مہدی نہ ہو گا۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 379 ایڈیشن 2008) تیرھویں صدی کے آخر میں اپنے دعوی کے بعد ظہور مسیح و مہدی کی علامات اپنے حق میں مسلسل اور پے در پے پورا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: احادیث صحیحہ میں لکھا ہے کہ جب علامات کا ظہور شروع ہوگا تو تسبیح کے دانوں کی طرح جبکہ اُن کا دھاگہ توڑ دیا جائے وہ ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتی جائیں گی۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ غلبہ صلیب کی علامت کے ساتھ اور تمام علامتیں بلا توقف ظاہر ہونی چاہئیں۔اور جو علامتیں اب بھی ظاہر نہ ہوں اُن کی