مسیح اور مہدیؑ — Page 688
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 688 حرف آخر حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر مسیح ناصری کے آسمان سے اترنے کے غلط خیال کی نہایت تحدّی سے تردید کرتے ہوئے فرمایا: 66 و مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض جھوٹا خیال ہے۔یادرکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اُترے گا۔ہمارے سب مخالف جو ، اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولا دمرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یکدفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کا انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑ دیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا۔اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ ( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67 ایڈیشن 2008) حضرت بانی جماعت احمدیہ کو دعویٰ مسیح و مہدی کے بعد اللہ تعالیٰ کی نصرت و معیت مسلسل حاصل رہی۔اپنے دعوئی ماموریت کے بعد آپ نے سنت نبوی کے مطابق 26 سال عمر پائی اور نصرت الہی ، قبولیت دعا، علم قرآن اور عربی دانی جیسے کئی نشان صداقت آپ کو عطا کیے گئے۔آپ فرماتے ہیں: ”اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دُعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جا ئیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دُعا نہیں سنے گا اور نہیں رُکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کر لے۔اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں۔پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو کا ذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔“ ( ضمیمہ تحفہ گولڑ و یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 50 ایڈیشن 2008)