مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 195 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 195

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 195 مسیح موعود اور امام مہدی کے مشترکہ کام ہوا۔جس میں اشارہ تھا کہ مسیح موعود اور اسکی مذکورہ بالا دیگر علامات کے ظہور کا بھی یہی تیرھویں اور چودھویں صدی کا زمانہ ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: و صحیح مسلم میں یہ کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ اونٹنیوں کے بیکار ہونے کا مسیح موعود کا زمانہ ہے۔اس لئے قرآن شریف کی آیت وَ إِذَا لَعِشَارُ عُطِّلَتْ جو حدیث يُتْرَكَ الْقِلاصُ کے ہم معنی ہے۔بدیہی طور پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعہ ریل جاری ہونے کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظہور آئیگا۔۔۔اور تمام اس دن بول اٹھیں گے کہ آج وہ پیشگوئی مکہ اور مدینہ کی راہ میں کھلے کھلے طور پر پوری ہو گئی۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 82 ایڈیشن 2008) حدیث کی ان نشانیوں میں مسیح موعود کا حکم عدل ہونا بھی لکھا ہے یعنی وہ عدل وانصاف کے ساتھ امت کے مذہبی اختلافات کا آخری فیصلہ سنائے گا۔چودہویں صدی کا ہی وہ زمانہ ہے جس میں مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات اپنی انتہا کو پہنچ گئے اور یہی وقت خدا سے ہدایت یافتہ ایک حقیقی منصف مہدی کی آمد کی ضرورت کا متقاضی تھا۔کسر صلیب: مسیح موعود کا ایک اور بڑا کام صلیب توڑنا بیان ہوا ہے۔شارح بخاری علامہ بدرالدین عینی نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس جگہ مجھ پر فیض الہی سے یہ معنی کھولے گئے ہیں کہ کسر صلیب سے مراد نصاری کے جھوٹ کا اظہار ہے جو وہ کہتے ہیں کہ یہود نے حضرت عیسی کو صلیب پر مار دیا تھا۔(عمدة القاری شرح بخاری جلد 12 صفحه 49-50 دار الكتب العلمية بيروت ) 65 پس اصل میں نصاری کے دلائل کو توڑنا ہی عیسائی مذہب کی شکست ہے۔اور چودھویں صدی ہی وہ زمانہ ہے جس میں عیسائیت برصغیر پاک و ہند میں اپنے عروج پر تھی اور مہدی کی آمد کا مقصد بھی اسلام کا غلبہ اور دلائل کے میدان میں عیسائیت کی شکست ہی تھی۔کسر صلیب کی علامت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ الہی تقدیر کے مطابق مسیح موعود کی آمد عیسائیت کے غلبہ کے زمانہ میں مقدر تھی اور اس نے دلائل قویہ اور براہین قاطعہ سے اسلام کو عیسائیت پر غالب کر دکھانا تھا۔چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود کی ایک عظیم الشان خدمت یہی ہے کہ آپ نے عیسی بن مریم کی وفات قرآن و حدیث اور بائیبل سے ثابت کر کے عیسائیت کے عقائد الوھیت اور تثلیث وغیرہ تو ڑ کر رکھ دیئے۔جیسا کہ دیوبندی عالم مولوی نورمحمد صاحب نقشبندی نے بھی