مسیح اور مہدیؑ — Page 35
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 35 تفسیر نبوی کی رو سے وفات عیسی کا قرآن سے ثبوت ان (لوگوں) پر صرف اس وقت تک نگران تھا جب تک میں ان میں موجود رہا۔پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو صرف تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہی ہر چیز پر نگران اور گواہ ہے۔اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں۔اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔(المائدہ: 118) تشریح امام بخاری اور مسلم نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کرتے ہوئے اسے صحیحین میں درج کیا۔سنن ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔حضرت عیسی کی وفات تمیں آیات قرآنی سے ثابت ہے۔ان میں سے ایک یہ آیت ( سورۃ المائدہ آیت (117) ہے۔جس کی تفسیر بیان کرنے کی خاطر امام بخاری نے یہ حدیث اپنی کتاب التفسیر میں درج کی تا واضح ہو کہ اس آیت کے الفاظ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے بارے میں استعمال کر کے اس کے بنیادی معنے طبعی موت ہی مراد لئے ہیں۔جیسا کہ حضرت عیسی نے بھی اپنے لئے یہی الفاظ انہی معنی میں استعمال کئے ہیں۔اس آیت کے پہلے حصہ میں بیان ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے بروز حشر جب اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تو نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ میری اور میری ماں کی عبادت کرو تو وہ جواب میں عرض کریں گے کہ میں ایسی ناحق بات کی تعلیم کیسے دے سکتا تھا اور اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو (اے عالم الغیب خدا) تجھے اس کا علم ہوتا۔میں نے تو انہیں صرف وہی تعلیم دی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اپنے اس رب کی پرستش کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے، اور میں ان پر صرف اس وقت تک نگران تھا جب تک میں ان میں موجود رہا ، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو صرف تو ہی ان پر نگران تھا۔(سورۃ المائدہ :117) اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے دو زمانوں کا ذکر کیا ہے۔ایک وہ دور جس میں وہ خود براہ راست اپنی قوم کی نگرانی فرماتے رہے۔دوسرا زمانہ بعد توقی“ (یعنی اپنی وفات کے بعد ) جس میں وہ اپنی قوم کی نگرانی کا انکار کرتے اور صرف خدا کو نگران قرار دیتے ہیں۔اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں کہ نزول آیت سے لے کر آج تک حضرت عیسی کی اپنی قوم کی براہ راست نگرانی ثابت نہیں۔لہذا اپنے اقرار کے مطابق وہ وفات یافتہ ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ وفات عیسی کے بارہ میں اس قرآنی وضاحت کے باوجود بعض لوگ اپنے رسمی عقیدہ حیات مسیح کی وجہ سے توفی کے رسول اللہ کے بیان فرمودہ معنی موت کی بجائے جسم سمیت آسمان پر اٹھانے کے