مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 36 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 36

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 36 تفسیر نبوی کی رو سے وفات عیسی کا قرآن سے ثبوت کرتے ہیں۔بخاری کی حدیث یہ معنی کو رڈ کرتی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے "كما قال “ کہہ کر قول میسی سے اپنے قول کو مماثلت دے کر فرمایا کہ جیسے حضرت عیسی نے جواب دیا تھا میں بھی وہی جملہ دہراؤں گا اور پھر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے الفاظ اپنی ذات کے لئے استعمال فرمائے ، جس کے معنی آنحضور کے حق میں بالا تفاق موت کے لئے جاتے ہیں۔پس حضرت عیسی کے لئے بھی اسی جملہ تَوَفَّيْتَنِی کے یہی معنے ہوں گے نہ کہ آسمان پر جانا۔چنانچہ امام بخاری نے توفی کے ان معنی کی مزید وضاحت رسول اللہ کے شاگر د حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ اس تفسیر سے بھی کر دی ہے جو انہوں نے اپنی صحیح میں اللہ تعالیٰ کے فرمان يَعِيسَى إِنِّي مُتَوَقِّيْكَ (آل عمران : 56) کے معنی ممیتک کیے ہیں یعنی اے عیسی میں تجھے طبعی موت دینے والا ہوں۔( نصر الباری شرح بخاری جلد نهم صفحه 191 ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی 2 بعض لوگ محض اعتراض کی خاطر امام بخاری کی اس تفسیر کو حضرت ابن عباس کا بلا سند قول کہہ دیتے ہیں جو درست نہیں۔بخاری کے شارح حضرت علامہ بدرالدین عینی نے حضرت ابن عباس کے اس قول کی سند ابو صالح عن معاویہ عن علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس بیان کر دی ہے۔(عمدۃ القاری شرح بخاری از علامہ بدرالدین عینی جلد 18 صفحہ 289) اس سند کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے نہایت مضبوط قرار دیا ہے۔( الفوز الكبير (اردو) صفحہ 75 اردواکیڈمی کراچی ) 10 پس کوئی بھی ادنی سی بصیرت اور غیرت دینی رکھنے والا مسلمان یہ کیسے گوارا کر سکتا ہے کہ لفظ توفی کے معنی ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو موت کے ہوں اور حضرت عیسی کے لئے اس لفظ کے معنے آسمان پر جانے کے کئے جائیں۔اگر توٹی کے معنی موت کے علاوہ کوئی اور بھی ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوانصح العرب تھے ، یہ متنازعہ لفظ کبھی استعمال ہی نہ فرماتے۔مزید برآں دو الگ الگ اشخاص جب ایک ہی قسم کا لفظ یا جملہ استعمال کریں تو ہر شخص کے لئے لغت تبدیل نہیں ہو جایا کرتی کہ بیک وقت ایک ہی قسم کے جملہ کے دو متضاد معنی مراد لئے جاسکیں۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے تو لفظ توفی کے معنی جسم سمیت زندہ آسمان پر جانا ہو اور تمام