مسیح اور مہدیؑ — Page 511
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 511 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب ہے۔مزید برآں اس حدیث کا یہ مطلب لینا کہ مسیح موعود د رسول اللہ کے مقبرہ میں دفن ہوگا ، درایت اور سیاق کلام کے بھی صریح خلاف ہے کیونکہ حدیث کے آخری حصہ میں مذکور ہے کہ میں اور عیسی بن مریم ایک ہی قبر سے حضرت ابو بکر و حضرت عمر کے درمیان اٹھیں گے۔پس رسول اللہ تو فرما ئیں کہ آپ اور دونوں ایک ہی قبر سے ابو بکر و عمر کے درمیان اٹھیں گے اور علماء قبروں کے نقشہ کے برخلاف اس کا ترجمہ مقبرہ کر دیں۔یہ بات کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے، جبکہ مقبرہ کے اندر قبروں کا نقشہ بھی اس ترتیب سے نہیں کہ رسول اللہ کی قبر ابوبکر و عمر کے درمیان ہو، بلکہ رسول اللہ کے بعد حضرت ابوبکر اور ان کے بعد حضرت عمر کی قبر ہے۔پس اس حدیث میں روحانی قبر کے سوا کوئی اور معنی نہیں کیے جاسکتے۔مشہور مورخ امام مھدی نے اپنے ذاتی مشاہدہ کی بنیاد پر قبور کی یہ ترتیب بیان کی ہے۔(وفاء الوفا الجزء الثانی صفحہ 566) قبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر حضرت ابو بکر صدیق قبر حضرت عمر فاروق دراصل اس حدیث میں مسیح موعود کے روحانی مقام کا ذکر ہے جس کے مطابق عیسی بن مریم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور حضرت ابو بکر و عمر دائیں بائیں روحانی مقام رکھتے ہیں۔یہ بات بھی مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ حدیث کا یہ جملہ کہ عیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن ہوں گے اسرائیلی روایات میں سے ہے۔چنانچہ یہودی علماء میں سے اسلام قبول کرنے والے صحابی حضرت عبداللہ بن سلام کا بیان ہے کہ توریت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نشانی لکھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن ہوں گے۔(جامع ترمذی اردو جلد دوم صفحہ 639 نعمانی کتب خانہ لاہور ) 180 اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دراصل یہ روایت انبیاء بنی اسرائیل کے مکاشفات میں سے تھی جو تعبیر طلب ہوتے ہیں۔اس مکاشفہ میں دراصل مسیح موعود کے اس مقام قرب اور روحانی مناسبت کی طرف اشارہ ہے جو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی محبت اور کامل اتباع کی برکت سے حاصل ہوگا اور جس کی بدولت موت کے بعد اس کی روح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح سے