مسیح اور مہدیؑ — Page 512
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 512 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب الله جاملے گی اور وہ روحانی قبر میں اپنے آقا آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہوں گے۔یہ وہی مضمون ہے جو ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے یوں بھی بیان فرمایا ہے کہ مہدی کا نام میرا نام ہوگا یعنی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل بروز ہو گا جیسا کہ علماء امت نے بھی یہ حقیقت تسلیم کی ہے۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ مہدی میں سید المرسلین کے انوار منعکس ہوں گے اور وہ اسم جامع محمدی کی شرح اور آپ کا عکس کامل (یعنی True Copy) ہوگا۔( الخیر الکثیر اردو صفحہ 236-237 مترجم مولاناعا بدالرحمان ناشر قرآن محل کراچی ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے بارہ میں یہی مضمون بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 181 سَأَدْخُلُ مِنْ عِشقِى بِرَوْضَةِ قَبْرِهِ وَمَا تَعْلَمُ هَذَا السِّرِّيَا تَارِكَ الْهُدَى کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 95ایڈیشن 2008) کہ میں اپنے عشق کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے روحانی باغ میں داخل ہو جاؤں گا اور اے ہدایت چھوڑنے والے! تجھے یہ راز معلوم نہیں۔خود رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا کہ قیامت کے روز آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اسے محبت ہوگی۔( بخاری کتاب الادب باب علامہ حب الله ) پس مسیح موعود کو بھی اپنی محبت رسول کی وجہ سے جنت میں رسول اللہ کی معیت حاصل ہوگی۔اس حدیث میں مسیح کے 45 سال قیام کا ذکر ہے۔بعض اور روایات میں دیگر مختلف مدتیں مذکور ہیں۔چنانچہ علامہ ابن حجر کے مطابق ایک روایت میں انیس سال اور کچھ مہینے ، دوسری روایت میں نہیں سال، تیسری روایت میں چالیس سال مدت بیان ہے۔چوتھی روایت میں چوبیس سال، پانچویں روایت میں تمہیں سال اور چھٹی روایت میں چالیس سال میں سے نو سال اس کی خلافت کے ہونے کا ذکر ہے۔ظاہر ہے یہ تمام روایات بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔اس لئے ان کی تاویل علامہ ابن حجر عسقلانی نے مہدی کی مختلف مراحل کی فتوحات سے کی ہے۔182 القول المختصر فى علامات المهدى المنتظر صفحه 28 مكتبة القرآن (القاهرة البتہ زیادہ تر ثقہ روایات میں مسیح کے آنے کے بعد 40 سال اسکے قیام کی مدت بیان ہوئی ہے۔(ابوداؤ دارد و جلد سوم صفحہ 321 فرید بک سٹال لاہور ) 183 یہ 40 سالہ مدت خواہ دعوئی مہدویت سے پہلے مراد ہو جیسا کہ بعض روایات میں اشارہ ہے کہ