مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 510 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 510

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 510 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب جو کذابوں کی سزا ہوتی ہے) بلکہ موت کے بعد بھی ان کا انجام ایسا شاندار ہو گا کہ وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی روحانی قبر میں دفن ہوں گے کیونکہ رسول اللہ کی ظاہری قبر اکھیڑنے کی حرکت کوئی غیرت مند مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔اس حدیث میں لفظ ” قبر تشریح طلب ہے جس کے دو ہی معنی ممکن ہیں اول زمین پر ظاہری جسمانی قبر دوسرے آسمان پر روحانی قبر۔اس جگہ ظاہری قبر کے معنی کرنے کی صورت میں چونکہ رسول اللہ کی قبر اکھیڑے بغیر وہاں مسیح کی تدفین ناممکن ہے اور اس سے آپ کی کسر شان اور سوء ادبی ہوتی ہے اس لئے ظاہری قبر مراد نہیں لی جاسکتی۔صرف روحانی قبر کے معنی ہی قابل قبول ہو سکتے ہیں۔جن کی تائید قرآن شریف سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ۔(عبس : 32) یعنی اللہ تعالیٰ ہر شخص کو موت دے کر اس کو ایک روحانی قبر عطا فرماتا ہے۔بعض علماء اس جگہ قبر کے معنی مقبرہ کر کے کہتے ہیں کہ حضرت عیسی دوبارہ آکر پھر رسول اللہ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے جہاں ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ حضرت عائشہ کی دو واضح روایات کے خلاف ہے۔1۔حضرت عائشہؓ کی روایت بخاری کے مطابق قبر کی تیسری جگہ انہوں نے خود اپنے لئے رکھی ہوئی تھی پھر حضرت عمر کی شہادت پر ان کی خواہش کے مطابق انہیں دے دی۔178 ( تیسیر الباری ترجمہ صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 40 نعمانی کتب خانہ لاہور ) اس کے بعد وہاں کسی اور قبر کی جگہ باقی نہ رہی ورنہ حضرت عائشہ اپنے حجرہ کی بجائے مسلمانوں کے عام قبرستان میں دفن ہونے کا فیصلہ نہ فرماتیں۔2۔دوسرے حضرت عائشہ کی رؤیا کے مطابق مقبرہ میں صرف تین قبور کی جگہ تھی جو ان کی زندگی میں ہی بن گئیں اور یہ رویا پوری ہو گئی۔آپ فرماتی ہیں میں نے دیکھا کہ تین چاند میری گود میں گرے۔جب رسول کریم میرے حجرے میں دفن ہوئے تو حضرت ابو بکڑ نے کہا یہ تمہارا پہلا چاند ہے۔اس کے بعد دوسرا چاند حضرت ابو بکر اور تیسرا چاند حضرت عمر وہاں دفن ہونے پر یہ رویا پوری (موطا امام مالک اردو صفحہ 315 نعمانی کتب خانہ لاہور ) ہوگئی۔179 مزید برآں قبر کے معنی ” مقبرہ یعنی قبرستان عربی لغت کے مطابق بھی درست نہیں۔پھر افصح العرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرنا اپنی ذات میں بے ادبی