مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 81 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 81

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 81 قرآن وحدیث میں رفع الی اللہ " کا مطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہے۔“ " إِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَه اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بندہ تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ساتویں آسمان پر رفع عطا کرتا (کنز العمال جلد 2 حصہ سوم صفحہ 69 دارالاشاعت کراچی ) اسی حدیث کی ایک دیگر روایت میں بالسلسلة کا لفظ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک زنجیر کے ذریعہ یعنی درجہ بدرجہ اس شخص کا رفع فرماتا ہے۔(کنز العمال جلد 2 حصہ سوم صفحہ 69۔ملاحظہ ہو حوالہ 23) ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک درجہ عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ رفع کرتا ہے یہاں تک کہ اس کو علیین ( بلند مقام ) میں پہنچادیتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل مترجم جلد پنجم صفحہ 229 مکتبہ رحمانیہ لاہور ) 24 شیعہ لٹریچر میں بھی مذکورہ بالا روایت کے علاوہ بعض اور دلچسپ روایات بھی ملتی ہیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ ہجرت حبشہ کے زمانہ میں حضرت جعفر طیار نے نجاشی شاہ حبشہ کو زمین پر بیٹھے دیکھا تو اس کا سبب پوچھا، نجاشی نے جواب دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وحی میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی نعمت پائیں تو اس کے لئے تواضع اختیار کریں اس لئے میں اپنی فتح کے بعد اس عاجزی کا اظہار کر رہا ہوں۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک نجاشی کی یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ تواضع انسان کو رفعت عطا کرتی ہے۔پس تم بھی عاجزی اختیار کرو اللہ تعالیٰ تمہارا رفع کرے گا۔( الشافی جلد سوم صفحہ 385 ظفر شیم پبلیکیشنز کراچی ) خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تواضع کی انتہائی حالت سجدہ کے بعد قعدہ میں 25 جو دعا دونوں سجدوں کے درمیان قعدہ میں پڑھتے تھے اس میں وَارْفَعُنِی کے الفاظ بھی شامل تھے یعنی اے اللہ میر ارفع کر۔(سنن ابن ماجہ مترجم جلد دوم صفحه 76 دار السلام ) 26/ اگر رفع کے معنی جسمانی طور پر آسمان پر جانے کے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول نہیں ہوئی جب کہ قائلین حیات مسیح کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی تکذیب کی شکایت خدا کے حضور کی تو اس دعا کے نتیجہ میں انہیں آسمان پر اٹھالیا گیا۔( تفسیر جامع البیان الجزء الخامس صفحہ 449۔بحارالانوار جلد 16 صفحہ 145)