مسیح اور مہدیؑ — Page 80
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 80 80 قرآن وحدیث میں رفع الی اللہ “ کا مطلب اس کی ماں کو بھی ہم نے ایک نشان بنایا تھا اور ان دونوں کو ہم نے ایک مرتفع مقام کی طرف پناہ دی جو پر امن اور چشموں والا تھا، میں مذکور ہے۔چنا نچہ حضرت علامہ ابن عربی نے بھی آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ رفع عیسی سے مرادان کی روح کا عالم سفلی سے جدا ہو کر عالم علوی میں مقام قرب حاصل کرنا ہے۔( تفسیر ابن عربی جلد اول صفحہ 165۔کتاب ہذا صفحہ 30 حوالہ نمبر 6) لغت عرب سے بھی رفع کے یہی معنی ثابت ہیں کہ یہ لفظ ذلیل کرنے اور نیچے گرانے کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت رافع کا بھی یہی مطلب ہے کہ وہ عام مومنوں کو سعادتیں عطا کر کے اور اپنے اولیاء کو قرب بخش کر رفع کرتا ہے۔(لسان العرب زیر لفظ رفع ) پس اللہ تعالیٰ کا حضرت عیسی سے بھی جو وعدہ تھا کہ : بعیسى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ ( آل عمران : 56 ) یعنی اے عیسی اطبعی موت کے بعد میں اپنی طرف تمھارا رفع کروں گا۔اسی کے مطابق ان کا روحانی رفع ہوا۔قرآن کریم میں حضرت اور لیس کے بارہ میں بھی رفع کے یہی الفاظ بمعنی عزت و منزلت استعمال ہوئے ہیں فرمایا: وَاذْكُرُ فِي الْكِتَبِ إِدْرِيسَ ، إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِياهِ وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم 57-58) اور اس کتاب میں اور یس کا ذکر بھی کر۔یقیناً وہ بہت سچا اور نبی تھا اور ہم نے اس کا ایک بلند مقام کی طرف رفع کیا تھا۔حضرت ادریس کے رفع الی اللہ سے مراد بھی روحانی درجات و مقام ہے۔اسی طرح قرآن شریف میں حضرت موسیٰ" کے زمانہ کے ایک شخص کا ذکر ہے جو آپ سے مباہلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہوا۔فرمایا: وَلَرْشِئْنَا لَرَفَعُنهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (اعراف: 177) یعنی اگر ہم چاہتے تو (ان) آیات کے ذریعے ضرور اس کا رفع کرتے لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی ہوس کی پیروی کی۔اب ظاہر ہے یہاں اللہ تعالیٰ کی شخص مذکور بلعم بن باعور سے کوئی جسمانی رسہ کشی مراد نہیں، بلکہ بوجہ نافرمانی اس کی روحانی مراتب سے محرومی کا اظہار ہے۔علامہ شوکانی نے فتح القدیر میں، مصری علماء شیخ محمد عبدہ اور مصطفیٰ مراغی نے اپنی تفاسیر اور شیعہ عالم علامہ قمی نے اکمال الدین میں رفع کے یہی معنی تسلیم کئے ہیں۔احادیث میں بھی رفع کا لفظ عزت کے معنی میں کثرت سے استعمال ہوا ہے ایک موقع پر