مسیح اور مہدیؑ — Page 82
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 82 قرآن وحدیث میں رفع الی اللہ “ کا مطلب صحیح بخاری میں آیت قرآنی كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأن (الرحمن : 30) کی تفسیر میں ہے لکھا کہ ہر روز اللہ تعالیٰ کئی قوموں کا رفع کرتا ہے اور کئی قوموں کو ذلیل ورسوا کرتا ہے۔( نصر الباری شرح بخاری جلد نہم صفحہ 651 ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی ) الغرض رفع کے لغوی معنی درجات کی بلندی اور رفعت روحانی کے ہیں اور انہی معانی میں حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی روحانی رفع ہوا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے جسمانی رفع کے بارہ میں اگر کوئی روایت ہے تو وہ قرآن اور احادیث صحیحہ سے مخالف ہونے کے باعث وضعی ٹھہرے گی۔جب کہ حضرت سلمان فارسی کی روایت کے مطابق خود موخد عیسائیوں سے حضرت عیسی کی وفات کا عقیدہ ثابت ہے۔دلائل النبوۃ صفحہ 86۔کتاب ہذا صفحہ 63 حوالہ نمبر 17) موجودہ عقیدہ حیات مسیح بعد کے بگڑے ہوئے عیسائیوں کی پیداوار ہے جسے قرون وسطی کے مسلمان علماء نے سادگی اور غلط فہمی سے قبول کر لیا۔علامہ ابن قیم (متوفی: 751ھ ) فرماتے ہیں: " جو مسیح" کے متعلق ذکر ہے کہ جب انہیں آسمان پر اٹھایا گیا تو ان کی عمر 33 برس کی تھی ، تو اس کے متعلق کوئی متصل سند کی حدیث نہیں ملتی کہ جس پر 28 اعتماد کیا جا سکے۔(زاد المعاد حصہ اول صفحہ 106 نفیس اکیڈمی کراچی ) مشہور حنفی عالم ، علامہ ابن عابدین الشامی (متوفی :1252ھ) فرماتے ہیں: امام ابن قیم کا نظریہ درست ہے اور واقعی یہ عقیدہ مسلمانوں میں 29 عیسائیوں سے آیا ہے۔“ (تفسیر فتح البیان جلد 2 صفحہ 49 مطبع الكبرى مصر ) علامہ شورائی لکھتے ہیں: عیسائی علماء نے یہودیوں کو دائرہ عیسائیت میں لانے کی خاطر بے سروپا باتیں عوام میں پھیلا دیں۔وفات کے متعلق بھی لوگوں کو ذہن نشین کرایا گیا کہ حضرت عیسی نے صلیب پر جان تو ضرور دی ہے لیکن تین دن کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گئے اور قیامت کے قریب زمین پر آئیں گے اور عیسائیت کے دشمنوں کا قلع قمع کریں گے۔( سائٹھیک قرآن صفحه 77-78 قرآن سوسائٹی کراچی ) 30