مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی

by Other Authors

Page 12 of 31

مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی — Page 12

۱۲ کی تکلیف کا سامنا نہ ہو۔ایک دوسرے واقعے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے حسن اخلاق کی یادیں کتنی گہری تھیں۔ایک صحابی سائی یہ ہے سلمان ہوئے تو بعض لوگوں نے پیارے آقا کے سامنے اُن کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا میں ان کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔“ سائی نے عرض کی " میرے ماں باپ آپؐ پہ قربان ہوں۔آپ ایک دفعہ تجارت میں میرے شریک تھے اور آپؐ نے ہمیشہ نہایت صاف (سنن ابو داؤد جلد ۲ ص ۳۱ ) معاملہ رکھا تھا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا مکہ کی ایک مال دار خاتون تھیں۔ان کا تعلق مشہور قبیلہ قریش بنو اسد سے تھا۔کنیت ام ہند تھی۔والدہ کا نام فاطمہ نبت زائدہ اور والد کا نام خویلد تھا۔آپ نے ۵۵ و ر میں پیدا ہوئیں یعنی آپ سے پندرہ سال بڑی تھیں بہت سمجھدار خاتون تھیں۔پاکیزگی کی وجہ سے آپنے کا لقب طاہرہ مشہور ہو گیا۔آپ کی تین دفعہ شادی ہوئی مگر تینوں مرتبہ شوہر کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو گئیں۔(طبقات ابن سعد حالات خدیجه) اسی زمانہ میں عرب میں ایک جنگ "حرب الفجار" چھڑ گئی جس میں آپؐ کے والد خویلد مارے گئے۔شوہر اور والد کی وفات کے بعد تجارت کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ رہا۔آپ اپنے عزیزوں کو سامان تجارت دے کہ بھیجتیں اور اچھا معاوضہ دیتیں۔آپ خطر تا سخی اور فیاض تھیں اپنا مال غریبوں مسکینوں ہیموں اور بیواؤں میں دل کھول کر تقسیم کر دیتیں۔(سیرة الصحابيات (۳) (٣٣٤)