مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی — Page 13
اللہ تعالی کی خاطر مال دینے سے تجارت میں خوب منافع ہوتا حتی کہ آپ مکہ کی مالدار ترین خاتون ہو گئیں۔آپ کی دولتمندی فیاضی اور پاکیزگی کی شہرت دُور دُور پھیلی۔امین و صادق محمد اور آپ کے چچا کی خواہش تھی کہ حضرت خدیجہ کا مال آپ شام سے کہ جائیں۔خدیجہ طاہرہ کو علم ہوا تو فوراً پیغام بھیجا کہ مجھے آپ پر بھروسہ ہے اگر آپ مالِ تجارت شام لے جائیں تو میں اوروں کی نسبت آپ کو دوگنا معاوضہ پیش کروں گی۔آپ حضرت خدیجہ کا سامان تجارت لے کہ بصری تشریف لے گئے۔اس تجارت میں حضرت خدیجہ کو اتنا نفع ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا آپ حضرت خدیجہ کے سامان تجارت کے ساتھ دو مرتبہ جرش تشریف لے گئے جو مین میں ہے اور ہر دفعہ حضرت خدیجہ نے آپ کو معاوضے کے ساتھ تحفے میں ایک اونٹ دیا۔( نور النبراس فی شرح ابن سید الناس) حضرت خدیجہ ناسمجھدار خاتون تھیں۔خوب جانتی تھیں کہ تجارت ہیں غیر معمولی نفع کے پیچھے اس ہونہار نوجوان کی محنت ہے۔پھر بھی اپنے غلام میسرہ سے جو تجارتی سفروں میں آپ کے ساتھ جاتا تھا نفع کا سبب پوچھا تو اس نے تایا " یہ اس شخص کی برکت ہے۔باقی لوگ جاتے ہیں تو نفع و الاسود ا دیکھ کر اپنی تجارت کر لیتے ہیں لیکن انہوں نے ایسا کام نہیں کیا جہاں نفع کی صورت ہوتی وہاں آپ کا مال لگا دیتے اور پھر پہلے تو ہم کھا پی بھی لیتے تھے اس دفعہ انہوں نے نہیں نا جائزنہ طور پر کھانے بھی نہیں دیا اور خود بھی نہیں کھایا۔یہ کہتے تھے کہ مال سب مالک کا ہے اور جتنا خرچ تمہارے لئے مقرر ہے اس سے زیادہ -