مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی

by Other Authors

Page 10 of 31

مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی — Page 10

کی وجہ سے مکہ کے لوگوں کے رہن سہن کے انداز میں بہت تبدیلی آئی ، مالی حالات بہتر ہوئے قریبی علاقوں کی خبریں مکہ میں آنے لگیں اور مکہ کے متعلق واقفیت کا دائرہ پھیلنے لگا۔شام کے علاقوں میں زیادہ تر عیسائی آباد تھے جبکہ یمین کی طرف زیادہ تر یہودی رہتے تھے۔مین شام اور مکہ کے علاقوں کے لوگوں کا میل جول بڑھا، آپس میں گفتگو اور تعلقات سے پرانے قصے دہرائے جاتے۔مکہ والے بتاتے کہ صدیوں سے سُنتے آئے ہیں کہ ہمارے علاقے ہیں ایک عظیم الشان نبی پیدا ہو گا۔ایسے ہی وعدے عیسائی اور یہودی بھی دہراتے تھے۔اپنے بزرگوں سے سُن سُن کر کچھ نشانیاں اُنھیں بھی یاد تھیں کہ موعود نبی کو کیسے پہچاننا ہے ہم نے پڑھا ہے کہ بچپن میں جب ابو طالب کے ساتھ پیارے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم شام کے سفر پر تشریف لے گئے تھے تو بحیر در آب ملا نے آپ کو پہچان لیا تھا کہ آپ ہی وہ موعود نبی ہیں جن کی بشارت میں دی گئی ہیں۔یہ سب خدا تعالیٰ کے خاص انتظام کے تحت ہو رہا تھا تا کہ آپ کی آمد کی نشانیاں لوگوں کے علم میں آئیں اور وہ آپ کو پہچان لیں۔آپ جب تجارتی سفروں پر اپنے چچا کے ساتھ جاتے تھے تو آپ کو ایک نظر دیکھنے والے آپ کی محبت میں گرفتار ہو جاتے۔آپ نے بچپن سے تجارتی قافلے آتے جاتے دیکھے تھے۔اپنے چچا سے تجارت ہی سیکھی تھی۔اس لئے جب جوان ہوئے تو تجارت ہی کو بطور پیشہ اختیار فرمایا ابو طالب کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے زیادہ کام نہیں کر سکتے تھے۔آپ باقاعدہ تجارتی قافلوں کے ساتھ سامان تجارت لے کر جانے لگے۔یہ سامان تجارت آپ کا ذاتی نہیں ہوتا تھا۔