مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 52
52 دیکھا جائے تو ایک ہندوستانی اور انگریز میں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ایک انگریز کی کوشش ، اس کی جد وجہد اس کی قربانی اور اس کا ایثار اتنا نمایاں ہوتا ہے کہ ایک ہندوستانی کی جدوجہد کی اس سے کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔وہ یورپ سے چلتے اور ہندوستان میں آکر سالہا سال تک تبلیغ کرتے ہیں۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ یہ پادری کیا ہیں۔انگریزوں نے انہیں اپنے سیاسی غلبہ کے حصول کا ایک ذریعہ بنایا ہوا ہے۔پھر اگر ان کی تبلیغ کا ذکر آئے تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اجی ان کی تبلیغ اپنے فائدہ کیلئے ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ اپنے فائدہ کے لئے جو قربانیاں کرتے ہیں کیا اس قسم کی قربانیاں ایک ہندوستانی نہیں کر سکتا؟ وہ چالیس چالیس پچاس پچاس بلکہ ساتھ ساٹھ سال تک ہندوستان میں رہتے ہیں۔یہیں بوڑھے ہوتے اور یہیں مرجاتے ہیں اور واپس جانے کا نام تک نہیں لیتے۔مگر ایک ہندوستانی یا تو آوارہ ہو کر گھر سے نکلے گا یا اگر آوارہ نہ ہو گا تو غیر ملک میں جانے کے چند سال کے بعد ہی شور مچانا شروع کر دے گا کہ مجھے واپس بلوالو۔غرض یا تو وہ آوارہ ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور اگر آوارہ ہو کر گھر سے نہیں نکلتا تو غیر ممالک میں ہمیشہ بے کل رہتا ہے اور واپسی کے لئے کوشش کرتا رہتا ہے۔اس کے مقابلہ میں یورپین قومیں آوارہ ہو کر اپنے ممالک سے نہیں نکلتیں۔وہ کام کے لئے نکلتی ہیں اور پھر جب کسی دوسرے ملک میں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں تو گھبراتی نہیں اور جو تکلیف بھی انہیں برداشت کرنی پڑے ، اسے خوشی سے برداشت کرتی ہیں۔مگر یہ نتیجہ ہے ان کی آزادی اور حریت کا اور ہمارے آدمیوں کی سستی اور غفلت نتیجہ ہے ان کی غلام ذہنیت کا۔اگر یہ ذہنیت مٹ جاتی اور وہ سمجھ لیتے کہ ترقی کا صرف ایک ہی ذریعہ نہیں ہو تا بلکہ اور بھی بیسیوں ذرائع خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہوئے ہیں تو وہ سستی اور غفلت میں مبتلا ہونے کے بجائے جد و جہد کرتے اور ایثار و قربانی سے کام لیتے اور پھر دیکھتے کہ اس کے کیسے خوشگوار نتائج نکلتے ہیں۔جیسے ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ایک ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو یہ آواز سنتے ہی کہ آؤ اور خدمت دین کیلئے اپنی زندگی وقف کر دو‘ نہایت خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی وقف کر دیتا اور غیر ممالک میں نکل جاتا ہے۔چنانچہ بعض تو بغیر کسی سرمایہ کے غیر ممالک میں کام کر رہے اور نہایت اچھا نمونہ دکھا رہے ہیں۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض و غایت جماعت میں ارتقائی روح پیدا کرنا تو مجالس خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ نوجوانوں کے سامنے وہ مقاصد رکھے جائیں جن کے بغیر ان میں ارتقائی روح پیدا نہیں ہو سکتی اور جن کے بغیر جماعت کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہمیں اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے اس وقت ایک ذہنی آزادی عطا کی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ہم میں سے ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندرہی (خواہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں یا نہ رہیں۔لیکن بہر حال وہ عرصہ غیر معمولی طو۔پر لمبا نہیں ہو سکتا، ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہو گی بلکہ سیاسی اور مذہبی بر تری بھی حاصل ہو جائے