مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 51
51 کرتے چلے آرہے ہیں۔اور میں نے بار ہا بتایا ہے کہ غلامی کی زندگی اپنے ساتھ بعض نہایت ہی تلخ اور ناخوشگوار نتائج لاتی ہے۔مثلاً غلامی کی ذہنیت جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائے وہ کبھی کوئی بڑا کام غلام قوم اور آزاد قوم میں فرق نہیں کر سکتے۔فاتح اقوام ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہماری تجارت اعلیٰ ہو ، غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہماری دفاعی کوششیں مضبوط ہوں ، غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہمارا تعلیمی معیار زیادہ بلند ہو ، غیر حکومتوں کے مقابلہ میں ہماری صنعت و حرفت نہایت بلند پایہ ہو اسی طرح اور بیسیوں باتیں ہیں جو ان کے دلوں میں جوش پیدا کرتی رہتی ہیں اور ہر سال ان باتوں پر جھگڑے رونما ہوتے رہتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں قوم میں بیداری اور بلند خیالی پیدا ہو جاتی ہے مگر غلام قوم کے معنی یہ ہیں کہ اس کی تمام جد وجہد صرف اس امر پر آکر ختم ہو جاتی ہے کہ مزدوری کی اور پیٹ پال لیا یا مدرسے گئے اور تعلیم حاصل کرلی۔بظاہر یہ ایک آرام کی زندگی نظر آتی ہے مگر دماغی لحاظ سے قتل عامہ کی حیثیت رکھتی ہے۔کیونکہ تمام قوم کا ذہن مردہ کر دیا جاتا ہے اور وہ قوم مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔اس کی مثال بالکل اس طوطے کی سی ہو جاتی ہے جسے کئی سال تک پنجرے میں بند رکھنے کے بعد جب آزاد کیا جاتا ہے تو وہ ادھر ادھر پھدک کر پھر پنجرے میں ہی آ بیٹھتا ہے۔کیونکہ اڑنے کی ہمت اس میں باقی نہیں رہتی۔اسی طرح غلام قوموں میں سستی اور غفلت کو امن اور آرام سمجھا جاتا ہے اور امنگوں کا فقدان اس قوم میں اطمینان قرار پاتا ہے۔جب ان میں سے کوئی شخص یہ کہہ رہا ہو تا ہے کہ میں بڑے اطمینان کی زندگی بسر کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا دل امنگوں سے بالکل خالی ہے اور جب وہ یہ کہتا ہے کہ دیکھو مجھے کیا امن اور چین نصیب ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر قسم کی جد وجہد اور ترقی کے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔غرض ان عیوب اور نقائص کو دور کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے۔کیونکہ ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ انسانی امنگوں اور جذبات کو کچلتی نہیں بلکہ انہیں بڑھاتی اور ترقی دیتی ہے۔وہ تعلیم ہمیں یہی بتاتی ہے کہ خدا نے کسی انسان کو غلام نہیں بنایا اور کوئی انسان کسی دوسرے کو غلام بنا بھی نہیں سکتا جب تک وہ خود غلام نہ بن جائے۔اس تعلیم کے ماتحت ہمیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ترقی کا جب کوئی ایک راستہ ہمارے لئے مسدود ہو جائے تو اللہ تعالٰی بعض اور راستے ہمارے لئے کھول دیتا ہے اور اگر ہم ان راستوں کو اختیار کریں تو بالکل ممکن ہے کہ جو آج ہم پر افسر ہیں وہ کل ہمارے غلام ہو جائیں۔مثلا انہیں ذرائع میں سے ایک ذریعہ اخلاقی برتری کے ہوتے ہوئے کوئی قوم غلام نہیں رہ سکتی تبلیغ ہے یا اپنی اخلاقی برتری کا ثبوت مہیا کرنا ہے۔دنیا میں اخلاقی برتری کے ہوتے ہوئے کبھی کوئی قوم غلام نہیں ہو سکتی۔غلام وہی قوم ہو گی جو اخلاق میں بھی پست ہو گی۔ہمارے ملک میں عام طور انگریزوں کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن اگر ان بعض خیالات اور عقائد کو مستثنیٰ کر کے جن میں ہمارا اور ان کا اختلاف ہے اور جن میں ہم انہیں غلطی پر سمجھتے ہیں، عملی رنگ میں ان کو