مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 53
53 اب یہ خیال ایک منٹ کے لئے بھی بچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیداہی نہیں ہو سکتی کسی ہے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت ہی عجز اور انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہونگے۔ہم انگریزی قوم کو عارضی طور پر مسلمانوں پر غالب دیکھتے ہیں۔مگر مستقل طور پر اسے اسلام کا غلام بھی دیکھ رہے ہیں۔ہماری مثال اس وقت ایسی ہی ہے جیسے کوئی بڑا آدمی جب کسی چھوٹے آدمی کے ہاں بطور مہمان جاتا ہے تو کچھ عرصہ کیلئے وہ اس کے قوانین کا پابند ہو تا ہے جیسے رسول کریم میں دل والوں نے بھی فرمایا ہے کہ خواہ کوئی کتنا بڑا آدمی ہو جب کسی دوسری جگہ جائے تو وہاں کے امام کے تابع ہو کر رہے ، خواہ وہ امام چھوٹا ہی ہو۔اسی طرح جب گورنر کسی دورہ پر جاتا ہے تو گو وہ بڑا ہوتا ہے مگر ڈپٹی کمشنر کی مرضی اور اس کے بنائے ہوئے پروگرام کے ماتحت اسے کام کرنا پڑتا ہے۔حضرت عمرؓ جب شام میں گئے تو حضرت ابو عبیدہ جو وہاں کے امیر تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کا پروگرام کیا ہو گا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا۔یہاں میرا پروگرام نہیں بلکہ تمہارا پروگرام ہو گا اور جو کچھ تم کہو گے اسی طرح میں کروں گا۔اب حضرت عمرؓ کا اس وقت ماتحتی قبول کر لینا یہ معنی نہیں رکھتا کہ حضرت عمرؓ نے دوسرے کی غلامی پسند کرلی۔عمر بہر حال عمرؓ تھے۔وہ حاکم تھے ، روحانی بادشاہ تھے اور خلیفہ وقت تھے۔حضرت ابو عبیدہ ان کے تابع تھے مگر تھوڑی دیر کے لئے حضرت عمرؓ نے بھی ان کی ماتحتی اختیار کرلی۔اسی طرح ہم جو دنیوی حکام کو ملتے ہیں تو اس رنگ میں ملتے ہیں کہ انہیں اس وقت عارضی طور پر ہم پر برتری حاصل ہے۔مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ کل وہ ہمارے شاگرد ہوں گے اور ہر قسم کی ترقی کے حصول کے سبق وہ ہم سے سیکھیں گے۔اگر اس خیال کو ہم اپنی جماعت کے افراد کے ذہنوں میں پورے طور پر زندہ رکھیں اور اسے مضبوط کرتے چلے جائیں تو ایک منٹ کے لئے بھی ہماری جماعت کے نوجوانوں کے دلوں میں غلامی کا خیال پیدا نہیں ہو سکتا۔جیسے اس بالا افسر کے دل میں غلامی کا خیال پیدا نہیں ہو سکتا جو تھوڑی دیر کے لئے کسی چھوٹے افسر کے ہاں جاتا اور اس کے پروگرام کا پابند ہو جاتا ہے۔خدام الاحمدیہ کی غرض وغایت۔سلسلہ کے وقار اور اسلام و احمدیت کی ترقی کے ضامن پس جماعت کے تمام دوستوں کو چاہئے کہ اپنے اپنے ہاں نوجوانوں کو منظم کریں اور ان کی ایک مجلس بنا کر خدام ا الاحمدیہ اس کا نام رکھیں اور انہیں سلسلہ کے وقار کے تحفظ اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے کام کرنے کی ترغیب دیں۔گذشتہ خطبہ میں میں نے اس امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی۔گو اتفاقی طور پر وقت زیادہ ہو جانے کی وجہ سے میں بعض باتیں بیان نہیں کر سکا تھا اور میں نے کہا تھا کہ اگلے خطبہ میں میں ان باتوں