مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 457
457 خدام نہ تھا۔اس لئے یہ کہنا کہ خدام الاحمدیہ اس طرح کرتے ہیں درست نہیں اور جب یہ واقعہ ہوا تھا تو محلہ کے پریذیڈنٹ کا فرض تھا کہ وہ اس کی تحقیقات کرتا اور اخلاق کی درستی ہر انسان کا فرض ہے چاہے وہ عہدیدار ہے یا نہیں اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ صحیح رنگ میں بچوں کی تربیت نہیں کرتے اور اگر کوئی شخص اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اس سے جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔گویا بجائے ان کو برے کاموں سے روکنے کے ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں۔جو والدین ایسا کرتے ہیں وہ اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہیں۔بچپن میں تو وہ ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں لیکن جب بچہ جوان ہو جاتا ہے اور بد اخلاقیوں سے باز نہیں آتا اور والدین کو ٹھکرا دیتا ہے تو پھر چیخنا شروع کر دیتے ہیں کہ دعا فرمائیں بچے کی اخلاقی حالت بہت خراب ہو گئی ہے حالانکہ ابتداء میں یہی لوگ اس کو خراب کرنے والے ہوتے ہیں۔قصہ مشہور ہے کہ کسی ڈاکو کو پھانسی کا حکم ملا۔جب حکام اسے پھانسی دینے لگے تو اس سے پوچھا گیا کہ اگر تمہاری کوئی خواہش ہو تو بتاؤ تاکہ وہ پوری کر دی جائے۔اس نے کہا میں اپنی والدہ سے ملنا چاہتا ہوں۔اس کی ماں کو بلایا گیا۔اس نے کہا میں علیحد گی میں بات کرنا چاہتا ہوں۔اس خیال سے کہ اب تو اس نے مرجاتا ہے اسے علیحدگی میں بات کرنے کی اجازت دے دی گئی۔چند منٹ بعد اس کی ماں کی شیخ سنائی دی۔افسر دوڑے دوڑے وہاں پہنچے کہ کیا ہو گیا ہے تو انہوں نے دیکھا کہ اس نے دانت مار کر اپنی ماں کا کلہ زخمی کر دیا تھا۔افسروں نے اسے لعنت ملامت کی کہ ظالم اب تو تم سولی کے تختے پر لٹکنے والے ہو۔ایسی حالت میں بھی تم سولی سے باز نہیں آئے اور تم نے اپنی ماں کا کلہ کاٹ کھایا ہے۔اس نے کہا آپ لوگ نہیں جانتے کہ میں نے کلہ کیوں کاٹا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آج پھانسی کے تختہ پر مجھے میری ماں ہی لٹکا رہی ہے۔وہ اس طرح کہ جب میں بچپن میں چھوٹی چھوٹی چیزیں چوری کر کے لاتا تھا تو وہ مجھ سے لے کر چھپا لیتی تھی اور اگر کوئی میرے متعلق شکایت کرتا تھا تو اس سے لڑنے لگ جاتی تھی۔میں اس وقت نا واقف تھا۔مجھے بچپن میں ہی چوری کی عادت پڑ گئی۔پھر میں نے بڑی چوریاں کرنی شروع کر دیں اور اب چوری کرتے ہوئے مجھ سے ایک آدمی قتل ہو گیا جس کی وجہ سے میں پھانسی دیا جا رہا ہوں۔اسی وجہ سے میں نے اپنی ماں کے کھلے کو کاٹا ہے کہ اصل مجرم میری ماں ہی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ لوگ ابتداء میں اپنی اولادوں کی تربیت کی فکر ابتداء سے ہی تربیت کریں نہیں کرتے اور اگر کوئی کہے تو اس سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور ہر شخص اپنے لڑکے کو معصوم سمجھتا ہے۔دوسرے کے لڑکے کے متعلق تو وہ کوئی بات سن بھی لیتا ہے لیکن اپنے لڑکے کے متعلق کوئی بات نہیں سن سکتا بلکہ اگر کوئی کہے تو الٹا اسے ڈانٹنا شروع کر دیتا ہے کہ آپ پہلے اپنے بچے کی تو خبر لیں۔ان کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی نمبردار گاؤں کے کسی شخص سے کٹورا مانگ کرلے گیا۔جب بہت دن گزر گئے اور نمبردار نے کور اواپس نہ کیا تو وہ خود کٹورا لینے کے لئے نمبردار کے مکان پر گیا۔جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نمبردار اس میں ساگ کھا رہا ہے۔اس نے کہا نمبر دار جی ! یہ کوئی اچھا طریق تو نہیں کہ آپ