مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 456

456 ہر احمدی کو بچوں اور نوجوانوں کی اصلاح کے لئے کوشاں رہنا چاہئے فرمایا :۔" آج میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتاہوں کہ دنیا میں صرف کام کو ہی نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کام کس طرح سے سرانجام دیا گیا ہے۔اگر کوئی کام بھونڈے طریق سے کیا جائے تو خواہ وہ اچھا ہی ہو اس کا دوسروں پر برا اثر پڑتا ہے اور اگر برا کام بھی عمدہ طریق سے کیا جائے تو گو وہ کام کرنے والے کے لئے تو نا جائز ہی ہو گا لیکن دوسروں پر اس کا اچھا اثر پڑے گا اور وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔مثلاً اگر کوئی شخص ریاکاری کے ساتھ کسی ایسے شخص کے ساتھ جس سے وہ دل میں عداوت رکھتا ہے حسن سلوک کرے تو دیکھنے والے تو یہی سمجھیں گے کہ اس کا طریق عمل قابل رشک ہے اور ہمیں بھی ایسا ہی طریق اختیار کرنا چاہئے۔پس خدام الاحمدیہ کو ہمیشہ غور کرتے رہنا چاہئے کہ لوگ ہمارے کام کی وجہ سے ہم سے محبت کرتے ہیں یا ہمارے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور اگر دوسروں پر ان کے کام کا اچھا اثر نہ ہو تو انہیں غور کرنا چاہئے کہ ہمارے کام میں کچھ بھونڈا پن تو نہیں جس کی وجہ سے لوگ ہمارے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور پھر جو نقائص اور عیوب انہیں اپنے اندر نظر آئیں ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسی طرح میں انصار کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ بچوں کی تربیت نہایت ضروری چیز ہے اور ان کی نگرانی نہ کرنا ایک خطرناک غلطی ہے۔آخر خدام کوئی غیر تو نہیں ہیں۔انصار کی اپنی ہی اولادیں ہیں مگر بجائے اس کے کہ وہ ان کو بچوں کی طرح سمجھا ئیں الٹا اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔گویا انہیں اپنا بیٹایا اپنا بھائی بھول جاتا ہے اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ خدام میں یہ نقص ہے اور خدام میں وہ نقص ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ خدام ہمارے ہی بیٹے ہیں۔خدام کوئی آسمان سے تو گرے نہیں۔وہ ان کی اپنی اولاد میں ہیں۔وہ احمدی محلوں میں رہنے والے بچے ہیں اور خدام کے باپ یا چچا انصار ہیں۔پس خدام الاحمدیہ کو بھی اپنے کاموں کا جائزہ لینا چاہئے اور ان نقائص کو دور کرنا چاہئے جن کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اعتراض پیدا ہوتا ہے اور انصار کو بھی خدام کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے"۔فرمایا :۔کل ایک صاحب نے ایک بات پیش کی تھی۔گو انہوں نے تعلیم کی کمی کی وجہ سے نامناسب رنگ میں پیش کی تھی کہ محلہ دار الفضل کے خدام ان کا گھوڑا کھول کر لے گئے اور اس پر سواری کرتے رہے۔میں نے بتایا تھا کہ وہ ان دو چار لڑکوں کا نام بحیثیت خادم کے کیوں پیش کرتے ہیں۔کیا وہ کام انہوں نے بحیثیت خادم کیا تھا۔اگر بڑی عمر کا کوئی آدمی غلطی کرے تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ انصار اللہ ایسا کرتے ہیں۔پس ان لڑکوں کا فعل بحیثیت