مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 455

455 لوکل انجمن اور خدام الاحمدیہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۰ مئی ۱۹۴۶ء کو بعد نماز مغرب مجلس عرفان میں بعض تربیتی امور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔"کل مجھے ایک شکایت قادیان سے پہنچی تھی اور آج اسی قسم کی ایک شکایت جماعت دہلی کی طرف سے موصول ہوئی ہے کہ لوکل انجمن اور خدام الاحمدیہ میں بعض دفعہ کسی معاملہ کے متعلق اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔میں ایک خطبہ میں تفصیل کے ساتھ ان امور کا ذکر کر چکا ہوں۔میرے نزدیک ان میں اختلاف اور ٹکراؤ کی کوئی وجہ نہیں۔معلوم نہیں کہ لوگ کس طرح ٹکراؤ پیدا کر لیتے ہیں۔جو شخص چالیس سال سے کم عمر کا ہے وہ خدام کا ممبر ہے اور جو اس سے زائد عمرکا ہے وہ انصار اللہ کا نمبر ہے۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض نوجوانوں کی تربیت اور ان کو کام کرنے کی عادت ڈالنا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کے نتائج اللہ تعالی کے فضل سے نہایت خوش کن اور اچھے نکل رہے ہیں۔باقی استثنائی صورتیں تو ہر قوم میں ہوتی ہیں اور کوئی قوم بھی سوفیصدی نیک نہیں ہوتی۔جو لوگ ست اور کمزور ہوتے ہیں ، ان کو پیار اور محبت سے سمجھانا چاہئے۔لڑنے اور کڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔باقی رہا انجمن کا معاملہ۔سو اس کے متعلق یا د رکھنا چاہئے کہ قانونی لحاظ سے کام کی ذمہ وار انجمن ہے۔خدام تو زائد کام کرنے والے ہیں۔اسی وجہ سے انجمن کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری کو خدام الاحمدیہ کے عہدیداروں پر فوقیت حاصل ہے اور ہر خادم انفرادی لحاظ سے انجمن کے نظام کے تابع ہے۔اگر کوئی خادم اپنے آپ کو تابع نہیں سمجھتا تو وہ غلطی پر ہے۔لیکن خدام الاحمدیہ کو اپنے دائرہ میں ایک حق حاصل ہے اور وہ یہ کہ خدام الاحمدیہ کی حیثیت میں ان کو حکم دینا کسی انجمن کے پریذیڈنٹ کا کام نہیں۔خدام کو بحیثیت خدام ان کے زعیم یا قائد ہی حکم دے سکتے ہیں۔ہاں احمدی ہونے کی حیثیت میں پریذیڈنٹ یا سیکر ٹری یا دوسرے کار کن جو کام کرانا چاہیں اس کے لئے حکم دے سکتے ہیں اور خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ اس کی تعمیل کریں"۔فرموده ۱۰ مئی ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۱ ستمبر ۱۹۶۰ء)