مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 454
454 "مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ ہمارا کوئی آدمی ایسا نہیں رہنا چاہئے جو قرآن کریم نہ پڑھ سکتا ہو انہوں نے قرآن کریم کی طرف سے توجہ ہٹالی ہے اور دوسری طرف چلے گئے ہیں حالانکہ یہ ایک نہایت ہی قیمتی چیز خدا تعالی کی طرف سے عظیم الشان نعمت کے طور پر مسلمانوں کو ملی تھی۔اب جماعت احمدیہ کو اس کی طرف پوری توجہ کرنی چاہئے اور ہمارا کوئی آدمی ایسا نہیں رہنا چاہئے جو قرآن کریم نہ پڑھ سکتا ہو اور جسے اس کا ترجمہ نہ آتا ہو۔اگر کسی شخص کو اس کے کسی دوست کا کوئی خط آجائے تو جب تک وہ اسے پڑھ نہ لے اسے چین نہیں آتا اور اگر خود پڑھا ہوا نہ ہو تو یکے بعد دیگرے دو تین آدمیوں سے پڑھائے گا۔تب اسے یقین آئے گا کہ پڑھنے والے نے صحیح پڑھا ہے۔لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خط آئے اور اس کی طرف توجہ نہ کی جائے۔عام طور دیکھا گیا ہے کہ غرباء قرآن کریم پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور امراء اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے حالانکہ جو شخص دنیاوی لحاظ سے کوئی علم رکھتا ہے یا امیر ہے ، اس کے لئے قرآن کریم کا پڑھنا زیادہ آسان ہے کیونکہ اس کو قرآن کریم کے پڑھنے کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔میرے نزدیک ایسے لوگ جو کہ تعلیم یافتہ ہیں مثلا ڈاکٹر ہیں، وکیل ہیں ، بیرسٹر ہیں ، انجنیر ہیں ، وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ مجرم ہیں کیونکہ وہ اگر قرآن کریم پڑھنا چاہتے تو بہت آسانی سے اور بہت جلدی پڑھ سکتے تھے۔پس ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ گنہگار ہیں۔دوسرے لوگوں کے متعلق تو یہ خیال جا سکتا ہے کہ ان کا حافظہ کام نہیں کرتا تھا لیکن ان لوگوں کے دماغ تو روشن تھے اور حافظہ کام کرتا تھا۔تبھی تو انہوں نے ایسے علوم سیکھ لئے۔ایسے لوگوں سے اللہ تعالی کہے گا کہ تمہیں دنیوی علوم کے لئے تو وقت اور حافظہ مل گیا لیکن میرے کلام کو سمجھنے کے لئے نہ تمہارے پاس وقت تھا اور نہ ہی تمہارے پاس حافظہ تھا۔ایک غریب آدمی کو دن میں دس بارہ گھنٹے اپنے پیٹ کے لئے بھی کام کرنا پڑتا ہے لیکن باوجود اس کے وہ قرآن کریم پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک امیر آدمی یا ایک وکیل یا ایک بیر سٹریا ایک ڈاکٹر جن کو چند گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے ان کے لئے قرآن کریم پڑھنا کیا مشکل ہے۔یہ سب سستی اور غفلت کی علامت ہے۔اگر انسان کو شش کرے تو بہت جلد اللہ تعالٰی اس کے لئے رستہ آسان کر دیتا ہے۔دوسری دنیا تو پہلے ہی دنیا کمانے میں منہمک ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی۔اگر ہماری جماعت بھی اسی طرح کرے تو کتنے افسوس کی بات ہو گی۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا علم و ہنر اور دوسری ایجادوں میں تو ترقی کرتی جا رہی ہے لیکن چونکہ قرآن کریم سے دور جا رہی ہے اس لئے وہی چیزیں اس پر تباہی اور بربادی لا رہی ہیں۔جب تک لوگ قرآن کریم کی تعلیمات کو نہیں اپنا ئیں گے۔جب تک قرآن کریم کو اپنار ہبر نہیں مانیں گے اس وقت تک چین کا سانس نہیں لے سکتے۔یہی دنیا کا مداوا ہے۔ہماری جماعت کو کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا قرآن کریم کی خوبیوں سے واقف ہو اور قرآن کریم کی تعلیم لوگوں کے سامنے بار بار آتی رہے تاکہ دنیا اس مامن کے سایہ تلے آکر امن حاصل کرے“۔فرموده ۱۰ مئی ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۷۰ء)