مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 224
224 میں ایک اور امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ چند دن ہوئے ہماری جماعت کے ایک دوست نے مجھے ایک خط لکھا۔جس کا مضمون یہ تھا کہ میں بازار میں سے گذر رہا تھا کہ مجھے ایک مخالف شخص نے کچھ ٹریکٹ دینے چاہے جس کے لینے سے میں نے انکار کر دیا۔لیکن اس نے اصرار کیا اور کہا کہ آپ لوگوں کو چاہئے کہ ہماری باتوں کو سنیں اور ٹریکٹ لینے سے انکار نہ کریں۔اس دوست نے لکھا ہے کہ مجھے ایک عام اعلان کے ذریعہ جماعت کے دوستوں کو ایسے لوگوں کا لٹریچر پڑھنے سے روک دینا چاہئے کیونکہ اس طرح جماعت کا کمزور طبقہ متاثر ہوتا ہے اور خطرہ ہوتا ہے کہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔میں اس بارہ میں پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں۔اور اب پھر کہتا ہوں کہ میرے نزدیک پبلک جگہوں میں یا ایسے مقامات میں جہاں کسی خاص قوم کو کوئی امتیازی حق حاصل نہ ہو۔وہاں اس کا کوئی حصہ نہ ہو اور بظاہر امن میں خلل واقع ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔ہر شخص آزادی کے ساتھ ہر شخص آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کو پھیلانے کا حق رکھتا ہے اپنے خیالات کو پھیلانے کا حق رکھتا ہے اور اگر ہم اسے روک دیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ بیرونی مقامات میں جب ہمارا کوئی احمدی ٹریکٹ وغیرہ تقسیم کرنے لگے اور دوسرے لوگ اسے روک دیں یا ٹریکٹ لینے اور پڑھنے سے انکار کر دیں تو وہ بھی اپنے رویہ میں حق بجانب سمجھے جائیں۔حالانکہ اگر کسی جگہ ہمارا کوئی احمدی اپنے ٹریکٹ تقسیم کرتا ہے اور لینے والا نہیں لیتا تو یہ امر اس کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے مگر بہر حال ہم غیروں کو اپنے ٹریکٹ دیتے ہیں اور جب دیتے ہیں تو جو حق ہمیں حاصل ہے ، وہی حق دوسروں کو بھی حاصل ہو نا چاہئے۔مذاہب دنیا میں امن پیدا کرنے کیلئے آتے ہیں ، فساد مذاہب دنیا میں امن پیدا کرنے کیلئے آتے ہیں پیدا کرنے کے لئے نہیں آتے اور اگر ہم ایک بچے پیدا مذہب پر قائم ہیں تو لازماً ہمیں دنیا کو وہ حریت اور آزادی دینی ہوگی جس کے بغیر دنیا کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔یہ تو لینے والے کا اختیار ہے وہ چاہے تو لے اور چاہے تو نہ لے۔مثلا فرض کرو کسی کے ہاتھ میں پہلے ہی بہت سی کتابیں ہوں یا اور کوئی سامان اس نے اٹھایا ہوا ہو تو کہہ سکتا ہے کہ میں اس وقت نہیں لے سکتا یا ممکن ہے وہ ٹریکٹ اس نے پڑھا ہوا ہو تو اس صورت میں بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے اس ٹریکٹ کی ضرورت نہیں۔اسی طرح اگر اسے پڑھنے کی فرصت ہی نہیں یا اس عذر کی بناء پر بھی وہ کوئی ٹریکٹ لینے سے انکار کر سکتا ہے۔لیکن اگر دینے والا دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دوسرا شخص غلطی پر ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کی اصلاح کروں تو اگر دیانتداری کے ساتھ اس کی نیت اسی حد تک ہے اور وہ دوسرے کی خیر خواہی و اصلاح کے جذبہ کے ماتحت اپنا کوئی ٹریکٹ دو سرے کو پڑھنے کیلئے دیتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے تقسیم کرنے یا اپنی جماعت کے دوستوں کو ان کے لینے اور پڑھنے سے منع کریں۔جس چیز کو اسلام ناجائز قرار دیتا ہے اور جسے ہم نا پسند کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اشتہار بازی یا ٹریکٹوں