مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 225
225 کی تقسیم وغیرہ سے کوئی فتنہ اٹھایا جائے اور یا پھر ہم اس امر کو نا پسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص رات کو اٹھ کر کسی کے خلاف کارٹون لگا دے۔اگر اس میں جرات اور دلیری ہے تو وہ کیوں اپنی پنچایت اپنی مجلس، اپنی جماعت اور اپنی قوم کے بزرگوں کے سامنے اس معاملہ کو نہیں رکھتا اور انہیں کیوں نہیں بتا تا کہ فلاں خرابی کو دور کرنا چاہئے اس کے معنے تو یہ ہیں کہ اس نے ایک بے دلیل بات بیان کر دی مگر جو جواب دینے والا ہے وہ حیران ہے کہ وسوسہ ڈال کر وہ بھاگ کہاں گیا۔تو یہ چیزیں ہیں جنہیں ہم نا پسند کرتے ہیں۔لیکن علی الاعلان کسی کو اشتہار یا ٹریکٹ دنیا ہرگز کوئی ناپسندیدہ طریق نہیں۔بشرطیکہ اس میں گالیاں نہ ہوں اور بشر طیکہ اس کی نیت فساد کی نہ ہو۔اگر اس طریق کو روک دیا جائے تو مذہب دنیا میں کبھی پھیل ہی نہیں سکتا۔آخر رسول کریم میل ل ل و ریلی کے جو مخالف تھے ، انہیں آپ کی باتیں سننا ناگوار ہی گذر تا تھا۔مگر کیا اس وجہ سے انہیں حق تھا کہ وہ رسول کریم ملی یم کو اپنی باتوں کے پھیلانے سے روک دیتے یا اس زمانہ میں تو پریس نہیں تھا۔مگر کیا موجودہ زمانہ میں غیر احمدیوں کو حق حاصل تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کہتے کہ آپ ہم میں اپنے اشتہار یا ٹریکٹ کیوں تقسیم کرتے ہیں۔پس اس قسم کی باتوں کو روکنا حماقت کی بات ہے۔ہر قوم کا حق ہے کہ وہ اپنے خیالات کو احسن طریق پر دنیا میں پھیلائے اور چاہے تو اشتہار تقسیم کرے اور چاہے تو ٹریکٹ دے۔یہ لینے والے کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو لے اور چاہے تو نہ لے۔مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کو اپنے لٹریچر کی تقسیم سے روک دے۔یہ تو اشاعت لٹریچر کے متعلق میں نے ایک اصول بیان کیا ہے۔لیکن میں اسی حد تک اپنی بات کو محدود نہیں رکھتا۔بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ میرے نزدیک کسی قوم کو بھورے میں بٹھا دینا اس سے انتہا درجہ کی دشمنی اور اس کی ترقی کی جڑ پر اپنے ہاتھوں سے تبر رکھنا ہے۔جو قوم بھورے میں بند کر کے بٹھا دی بجائے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی اور نہ کبھی عزت اور عروج کو حاصل کر سکتی ہے۔ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے بچوں کو گھروں میں سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں اور انہیں تاکید کرتے رہتے ہیں کہ دیکھنا با ہر نہ جانا۔دیکھنا فلاں فلاں سے نہ ملنا۔وہ اپنے ماں باپ کی موجودگی میں تو الگ تھلگ رہتے ہیں۔لیکن جب ان کے سروں سے ماں باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو وہ اول درجہ کے آوارہ ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جذبات دبے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ نہ معلوم فلاں فلاں لڑکے میں کیا بات ہے کہ ہمارے ماں باپ ہمیں ان سے ملنے نہیں دیتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ماں باپ سر پر نہیں رہتے تو چونکہ ان کے دل میں مدتوں سے جذبات دبے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ ان سے ایسے شوق اور ایسی محبت سے ملتے ہیں کہ بہت جلد خراب ہو جاتے ہیں۔لیکن دوسرا لڑکا جس کی گو جائز نگرانی کی جاتی ہو مگر اسے لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے بھی منع نہ کیا جاتا ہو۔وہ جب آوارہ لڑکوں کو دیکھتا اور ان کے انجام پر نظر دوڑاتا ہے تو کبھی خالی نہیں کرتا اور بالعموم اس کا ایسا مضبوط کیریکٹر رہتا ہے کہ لوگ اس پر ڈورے نہیں ڈال سکتے۔