مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 767
767 دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہمارے خاندان کے افراد اپنے روپیہ سے اسے شائع کردیں لیکن روپیہ پاس نہیں تھا۔اس وقت تک ہماری زمینداری کا کوئی انتظام نہیں تھا۔میں نے اپنے مختار کو بلایا اور کہا ہم قرآن کریم چھپوانا چاہتے ہیں لیکن روپیہ پاس نہیں۔وہ کہنے لگا آپ کو کس قدر روپے کی ضرورت ہے۔میں نے کہا کہتے ہیں کہ پہلی جلد تین ہزار روپے میں چھپے گی۔اس نے کہا میں روپیہ لا دیتا ہوں۔آپ صرف اس قد ر ا جازت دے دیں کہ میں کچھ زمین مکانوں کے لئے فروخت کر دوں۔میں نے کہا اجازت ہے۔ظہر کی نماز کے بعد میں نے اس سے بات کی اور عصر کی اذان ہوئی تو اس نے ایک پوٹلی میرے سامنے لاکر رکھ دی اور کہا یہ لیں روپیہ۔میں نے کہا ہیں قادیان والوں کے ہاں اتنا روپیہ ہے۔وہ کہنے لگا اگر آپ میں ہزار روپیہ بھی چاہیں تو میں آپ کو لا دیتا ہوں۔لوگ مکانات بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس زمین نہیں۔اگر انہیں زمین دے دی جائے تو روپیہ حاصل کرنا مشکل نہیں۔میں نے کہا خیر اس وقت ہمیں اسی قدر روپیہ کی ضرورت ہے چنانچہ اس وقت ہم نے قرآن کریم کا پہلا پارہ شائع کر دیا۔پھر میں نے الفضل جاری کیا تو اس وقت بھی میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔حکیم محمد عمر صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں آپ کو کچھ خریدار بنا کر لا دیتا ہوں اور تھوڑی دیر میں وہ ایک پوٹلی روپوں کی میرے پاس لے آئے غرض ہم نے پیسوں سے کام شروع کیا اور آج ہمار الا کھوں کا بجٹ ہے اور ہماری انجمن کی جائیداد کروڑوں کی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں خود گزشتہ میں سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ دے چکا ہوں اسی طرح ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ میں نے صدر انجمن احمدیہ کو دیا ہے اور اتنی ہی جائیداد اسے دی ہے گویا تین لاکھ صدرانجمن احمدیہ کو دیا ہے اور تین لاکھ ستر ہزار روپیہ تحریک جدید کو دیا ہے اس لئے جب کوئی شخص اعتراض کرتا ہے کہ میں نے جماعت کا روپیہ کھا لیا ہے تو مجھے غصہ نہیں آتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حسابی بات ہے۔جب انجمن کے رجسٹر سامنے آجائیں گے تو یہ شخص آپ ہی ذلیل ہو جائے گا۔بہر حال اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ سب کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ان کو یاد رکھو اور اپنی جگہوں پر واپس جا کر اپنے بھائیوں اور دوستوں کو بھی سمجھاؤ کہ زبانی طور پر وفاداری کا عہد کرنے کے کوئی معنی نہیں۔اگر تم واقعی وفادار ہو تو تمہیں منافقوں کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ انہوں نے لایالونکم خبالا والی بات پوری کر دی ہے اور وہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔قرآن کریم کی ہدایت یہی ہے کہ ان سے مخفی طور پر اور الگ ہو کر بات نہ کی جائے اور اس پر تمہیں عمل کرنا چاہئے تاکہ تم شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاؤ ورنہ تم جانتے ہو کہ شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا اور جو شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا وہ جماعت احمدیہ میں کیوں نہیں گھس سکتا۔ہاں اگر تم کو حضرت آدم والا قصہ یا د رہے تو تم اس سے بچ سکتے ہو۔بائیبل کھول کر پڑھو ، تمہیں معلوم ہو گا کہ شیطان نے دوست اور خیر خواہ بن کر ہی حضرت آدم اور حوا کو ورغلایا تھا اسی طرح یہ لوگ بھی دوست اور ظاہر میں خیر خواہ بن کر تمہیں خراب کر سکتے ہیں لیکن اگر تم قرآنی ہدایت پر عمل