مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 768 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 768

768 کرو تو محفوظ ہو جاؤ گے اور شیطان خواہ کسی بھیس میں بھی آئے ، تم اس کے قبضہ میں نہیں آؤ گے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو ہمیشہ خلافت کا خدمت گزار رکھے اور تمہارے ذریعہ احمدیہ خلافت قیامت تک محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہوتی رہے اور تم اور تمہاری نسلیں قیامت تک اس کا جھنڈا اونچار کھیں اور کبھی بھی وہ وقت نہ آئے کہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں تمہارا یا تمہاری نسلوں کا حصہ نہ ہو بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے تمہارا اور تمہاری نسلوں کا اس میں حصہ ہو اور جس طرح پہلے زمانہ میں خلافت کے دشمن نا کام ہوتے چلے آئے ہیں، تم بھی جلد ہی سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ان کو نا کام ہو تادیکھ لو"۔اس کے بعد حضور نے عہد دہرایا اور دعا کروائی۔دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے ارشاد فرمایا کہ:۔” واپس جانے سے پہلے میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت موجودہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے میں نے جماعت کے فتنہ پردازوں کا ذکر کیا ہے لیکن اس موقعہ کے زیادہ مناسب حال آج کا خطبہ جمعہ تھا جس میں میں نے خدمت خلق پر زور دیا ہے۔خدام الاحمدیہ نے پچھلے دنوں ایسا شاندار کام کیا تھا کہ بڑے بڑے مخالفوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی یہ خدمت بے نظیر ہے۔تم اس خدمت کو جاری رکھو اور اپنی نیک شہرت کو مد ہم نہ ہونے دو۔جب بھی ملک اور قوم پر کوئی مصیبت آئے سب سے آگے خدمت کرنے والے خدام الاحمدیہ کو ہونا چاہئے یہاں تک کہ سلسلہ کے شدید سے شدید دشمن بھی یہ مان لیں کہ در حقیقت یہی لوگ ملک کے بچے خادم ہیں۔یہی لوگ غریبوں کے ہمدرد ہیں۔یہی لوگ مسکینوں اور بیواؤں کے کام آنے والے ہیں۔یہی لوگ مصیبت زدوں کی مصیبت کو دور کرنے والے ہیں۔تم اتنی خدمت کرو کہ شدید سے شدید دشمن بھی تمہار ا گہرا دوست بن جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا سلوک کرو کہ تمہارا دشمن بھی دوست بن جائے۔یہی خدام الاحمدیہ کو کرنا چاہئے۔اگر تمہارے کاموں کی وجہ سے تمہارے علاقہ کے لوگ تمہارے بھی اور تمہارے احمدی بھائیوں کے بھی دوست بن گئے ہیں، تمہارے کاموں کی قدر کرنے لگ گئے ہیں اور تم کو بھی اپنا سچا خادم سمجھتے ہیں اور اپنا مددگار سمجھتے ہیں تو تم کچے خادم ہو اور اگر تم یہ روح پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو تمہیں ہمیشہ استغفار کرنا چاہئے کہ تمہارے کاموں میں کوئی کمی رہ گئی ہے جس کی وجہ سے تم لوگوں کے دلوں میں اثر پیدا نہیں کر سکے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کی مدد کرے"۔فرموده ۱۹ اکتوبر ۱۹۵۶ء مطبوعہ الفضل ۲۴ اپریل ۱۹۵۷ء)