مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 766
766 خرچ کر رہے ہیں اسی طرح مرکزی دفاتر اور بیرونی مشنوں کو ملا لیا جائے تو ماہوار خرچ ستر اسی ہزار روپیہ بن جاتا ہے گویا آپ کے زمانہ میں جو خرچ پانچ سات سال میں ہو تا تھا، وہ ہم ایک سال میں کرتے ہیں اور پھر بڑی آسانی سے کرتے ہیں۔اس طرح یہ خلافت کی ہی برکت ہے کہ تبلیغ اسلام کا وہ کام جو اس وقت دنیا میں اور کوئی جماعت نہیں کر رہی صرف جماعت احمدیہ کر رہی ہے۔مصر کا ایک اخبار الفتح ہے، وہ ہماری جماعت کا سخت مخالف ہے مگر اس نے ایک دفعہ لکھا کہ جماعت احمدیہ کو بے شک ہم اسلام کا دشمن خیال کرتے ہیں لیکن اس وقت وہ تبلیغ اسلام کا جو کام کر رہی ہے گزشتہ تیرہ سو سال میں وہ کام بڑے بڑے اسلامی بادشاہوں کو بھی کرنے کی توفیق نہیں ملی۔جماعت کا یہ کارنامہ محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اور تمہارے ایمانوں کی وجہ سے ہے۔آپ کی پیشگوئیاں تھیں اور تمہارا ایمان تھا۔جب یہ دونوں مل گئے تو خداتعالی کی برکتیں نازل ہونی شروع ہو ئیں اور جماعت نے وہ کام کیا جس کی توفیق مخالف ترین اخبار الفتح کے قول کے مطابق کسی بڑے سے بڑے اسلامی بادشاہ کو بھی آج تک نہیں مل سکی۔اب تم روزانہ پڑھتے ہو کہ جماعت خداتعالی کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے اگر اللہ تعالی چاہے تو تم اور بھی ترقی کرو گے اور اس وقت تمہار ا چندہ ہیں، پچیس لاکھ سالانہ نہیں ہو گا بلکہ کروڑ دو کروڑ پانچ کروڑ دس کروڑ میں کروڑ پچاس کروڑ ارب کھرب پدم بلکہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور پھر تم دنیا کے چپہ چپہ میں اپنے مبلغ رکھ سکو گے۔انفرادی لحاظ سے تم اس وقت بھی غریب ہو گے لیکن اپنے فرض کے ادا کرنے کی وجہ سے ایک قوم ہونے کے لحاظ سے تم امریکہ سے بھی زیادہ مالدار ہو گے۔دنیا میں ہر جگہ تمہارے مبلغ ہوں گے اور جتنے تمہارے مبلغ ہوں گے اتنے افسر دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کے بھی نہیں ہوں گے۔امریکہ کی فوج کے بھی اتنے افسر نہیں ہوں گے جتنے تمہارے مبلغ ہوں گے اور یہ محض تمہارے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ہو گا۔اگر تم اپنے ایمان کو قائم رکھو گے تو تم اس دن کو دیکھ لو گے۔تمہارے باپ دادوں نے وہ دن دیکھا جب ۱۹۱۴ء میں پیغامیوں نے ہماری مخالفت کی۔جب میں خلیفہ ہوا تو خزانہ میں صرف سترہ روپے تھے۔انہوں نے خیال کیا کہ اب قادیان تباہ ہو جائے گا لیکن اس کے بعد اللہ تعالٰی نے ایسی برکت دی کہ اب تم اپنے کسی طالب علم کو سترہ روپے ماہوار وظیفہ بھی دیتے ہیں تو یہ وظیفہ کم ہونے کی شکایت کرتا ہے۔پیغامیوں کے خلاف پہلا اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس روپیہ نہیں تھا۔میر ناصر نواب صاحب !و ہمارے نانا تھے ، انہیں پتہ لگا۔وہ دار الضعفاء کے لئے چندہ جمع کیا کرتے تھے۔ان کے پاس اس چندہ کا کچھ روپیہ تھا۔وہ دو اڑھائی سو روپیہ میرے پاس لے آئے اور کہنے لگے اس سے اشتہار چھاپ لیں پھر خدا دے گا تو یہ رقم واپس کر دیں۔پھر خدا تعالٰی نے فضل کیا اور آمد آنی شروع ہوئی اور اب یہ حالت ہے کہ پچھلے ہیں سال کی تحریک جدید میں تین لاکھ ستر ہزار روپیہ چندہ میں نے دیا ہے۔کجا یہ کہ ایک اشتہار شائع کرنے کے لئے میرے پاس دو اڑھائی سو روپیہ بھی نہیں تھا اور کجا یہ کہ خدا تعالٰی نے میری اس قسم کی امداد کی اور زمیندارہ میں اس قدر برکت دی کہ میں نے لاکھوں روپیہ بطور چندہ جماعت کو دیا۔پھر مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے پہلا پارہ شائع کرنا چاہا تو میرے